October 17, 2016

9 نومبر 2015

آماں کو اس بستر پہ لیٹے چھ سال ہو گئے تھے ، وہ سوچنے  سمجھنے ، پہچاننے کی صلاحیت بہت عرصہ پہلے کھو چکی  تھیں، وہ ایک بستر پہ پڑی رہیں ، کوئی زی شعور انسان اتنا عرصہ بستر پہ نہیں رہ سکتا،  یہ اللہ کی حکمت تھی کہ زماں و مکاں سے لا علم کر دیا گیا انکو ، کبھی بات بھی کرتیں تو کسی اور دور کی ، ان کے زہن میں بھی وہی تین چار جگہیں جہاں انہوں نے بیشتر زندگی گزاری تھی گھومتی رہتی ، اماں کو کھانا کھلانا بہت مشکل تھا ، کبھی تو کھا لیتیں ،اور اگر ضد پہ اڑ جاتیں تو منہ نہ کھولتی ، ان کا کمرہ گھر کے کونے میں تھا جس کو باہر سے بھی رستہ جاتا تھا اور اندھر  ٹی وی لائونج سے بھی ، لیکن ٹی وی لائونج والا دروازہ اکثر بند رہتا تھا ۔ آماں کو دیکھ کر دل بڑا دکھتا تھا کوشش کے با وجود بھی ان کے لیے کچھ کر نہیں پاتا تھا ، صفائی کا بہت مسئلہ تھا ، نرس آتی تو تھی لیکن  اماں کو بلکل شعور نہ تھا ، سو لگاتار صفائی رکھنا بلکل ممکن نہ تھا ،  پیپمر وغیرہ اتار پھینکتیں بدبو بھی رہنے لگی ان کے کمرے میں
۔ یہ گھر کا سب سے مشکل دور تھا ، ان کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی ، ایسے وقت میں اپنی اولاد کے علاوہ اور اکثر تو اپنی اولاد بھی ساتھ نہیں دے پاتی۔ سب کو عادت سی ہو گئی اور شاید ان کو بھی ، وہ نہ شکوہ ،  کوئی فرمائش ، نہ ہی کبھی درد یا تکلیف کی شکایت ۔ اور نہ کبھی کچھ مانگتیں۔ ان کے ساتھ رہ کر ہوں لگنے لگا کہ شاید انکو کسی چیز کی ضرورت ہی نہیں ، ہمیں عادت سی ہو گئی ان کے ایسے ہی رہنے کی۔ ان کی یہ حالت ہمیں نارمل لگناے لگی ، شاید اس لیے بھی کہ بیمار ہونے کے بعد ہی ان کواس گھر لایا گیا تھا ، اور اس گھر نے انکو قریب سے اسی حالت میں دیکھا تھا۔ پر سب اپنی جگہ بے بس  بھی تھے ، کچھ کر بھی نہیں سکتے تھے،
 ۔ یوں لگتا تھا کہ ان کے ہونے یا نہ ہونے سے کچھ فرق نہیں پڑتا ، وہ جب تک ہیں تو لیٹی ہیں ، جب چلی جائیں گی تو ان کی تکلیف ہی کم ہو گی ، گھر پہ کچھ فرق نہ پڑے گا۔ بس ایک تکلیف جو انکو دیکھ کر ہوتی تھی وہ کم ہو جائے گی ، ان کی زمہ داری کم ہو جائے گی ۔ اماں کو کبھی کوئی ملنے نہ آیا تھا ان کے رشتہ داروں میں سے جن کے وہ ساری عمر صدقے واری جاتی رہیں ،جن پہ اپنا سب کچھ لٹاتی رہیں، سب مصروف ہو گئے اپنے کاموں میں ، اور اماں نے شاید رستہ دیکھنا بھی چھوڑ دیا تھا خود کو اس دنیا سے لاتعلق کر کے۔ بلکہ وہ تو اس  اس گھر والوں کا بھی نہ انتظار کرتیں، انہوں نے اپنی کوئی اور ہی دنیا بسائی ہوئی تھی جس میں کچھ بچے اور عورتیں تھیں جن سے وہ کبھی کبھی باتیں کرتیں جو پاس بیٹھا ہوتا اس کو بھی انہی کے متعلق بتاتی رہتی ، یا کوئی پرانی بات جو ان کے زہن میں آجاتی اس کا پوچھتی بار بار۔
پھر  اماں کی طبیعت بہت بگڑ گئی، وہ چلانے لگیں، مطلب انکو تکلیف زیادہ ہو گئی تھی ورنہ  تو پچھلے سالوں میں شاید درد سے بھی رشتہ توڑ چکی تھیں کہ کبھی  ایسا نہ کیا تھا، ڈآکٹر کو دکھایا تو اسنے وہی دوائیاں  جاری رکھنے کو کہا۔ عالم نزع تھا ان پہ ، گھر میں سب کو اندازہ  ہو چکا تھا ، رات بمشکل گزری صبح سات بجے کے قریب اماں  اس دنیا سے چلی گئیں ، ایسے مسکینی  میں گئیں کہ دل ازردہ ہو گیا ، ایک بوجھ  اترا لیکن دل بوجھل ہو گیا ،
ایک مہینہ تو  ماتم میں ہی گزرا ، مہمان آتے رہے ، مصروفیت رہی ، جمعرات کو  لوگ زیادہ بلائے جاتے، لیکن پھر حالات بدلنے شروع ہو گئے ، اس کے بعد پائوں سیدھے نہیں ہوئے ، وقت نے اپنے دھارے پہ کر لیے پورے گھر کو ، جس طرف موڑتا ہم پڑتے جاتے ، سب کچھ اس تیزی سے ہوتا رہا کہ سمجھ سے بالاتر تھا ، کچھ بیماریاں ، کچھ چیزیں جیسے چھپی بیٹھیں تھیں یا اماں ان کو روکے بیٹھی تھیں ، ا ن کے جانے کے انتظار میں تھیں ، جیسے چھ سال کے سارے واقعات اب چھ مہینے میں ہونا تھے ، ہمیں کبھی نہیں پتہ ہوتا کہ کون کیا ہے ، اور اس سے ہمارے لیے کیا کیا ہے ، یہ بات میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ  اماں نے نہ جانے کیا کیا روک رکھا ہے جو وہ یوں ہیں، تب لگتا تھا ہماری بے بسی ساتھ لے جائیں گی اور اس کرب سے ہمیں چھٹکارہ دلا دیں گی ، لیکن اس کا اندازہ لگانا تب بہت مشکل تھا ، سمجھ نہیں اتی تھی ، ہمیشہ یہی لگتا کہ کچھ خاص فرق نہیں پڑے گا ، آسانی ہو گی مزید ان کے لیے بھی اور  ہمارے لیے بھی ، لیکن وہ گئیں تو گویا بند ٹوٹ گیا ، ساری آزمائشیں  سیلاب کی طرح بہتی سر پہ آن پہنچیں ۔۔ ان کو روکنے والا ، جس کی برکت سے وہ رکی تھیں وہ جا چکا تھا، بظاہر وہ کچھ بھی نہیں کر سکتیں تھیں ، تو بھی وہ بہت کچھ کر رہی تھیں ،
ہم یہ بات کبھی بھی نہیں سمجھ سکتے کون ہمارے زندگی میں کیا ہے اور اس کے ہونے سے کیا کیا ہے ، پتہ تب چلتا ہے جب وہ اپنا سب کچھ سمیٹ کر اپنے ساتھ لے جاتا ہے اور ہم خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں

January 28, 2013

ہتھ دکھائی (اصلی ڈفری پوسٹ)

 نوٹ:  نقالوں سے ہوشیار ، ڈفری پوسٹ کو پڑھ کر پہچانیں، 
 پچھلی ڈفری پوسٹ  انوکھا لاڈلا اصلی نہیں تھی ، سینٹی منٹل ہونے والوں پہ "آہو" ۔

زیرا  چہرے پہ کمینی ہنسی سجائے ہر کسی کو دیکھ کر دور سے ہاتھ دکھاتا اور زیر لب کہتا   یہ ہاتھ دیکھا ہے میرا تیرے بوتھے پہ چھاپ دوں گا ، اور بہت سے کام آتے مجھے اس سے ، اور جواب میں اگلا بندہ بڑا مشکور ہو کر کہتا کہ بس ٹھیک ٹھاک ، اے ون ، تم سنائو اور یہ سننے ہی زیرے کا ہاتھ اور باچھیں مزید پھیل جاتیں اور پیلے دانت مزید نمایاں ہو جاتے اوراگر سامنے والے کے ساتھ کوئی بچپنی رنجش ہوتی اسی کمینی ہنسی کے ساتھ ہاتھ کو ہتھیار بنا کر  اس کے شجرہ نسب میں غیر قانونی مداخلت کرتا اور مفہول ممنون و مشکور ہی ہوا جاتا ، پس زیرا اسی  ہتھ دکھائی کی وجہ سے بڑا خوش اخلاق سمجھا جاتا تھا
کالج سے واپسی پہ راستے میں نجومی بیٹھتا تھا رمضان عرف رمضو نجومی ، ایک روز سب اس کے پاس جا بیٹھے ، باری باری ہاتھ دکھانے لگے ، ، فاجے نی الٹا ہاتھ آگے کیا ۔ رمضو  نے ہاتھ کو بہت مقدس چیز کی طرح ہاتھوں میں تھام لیا اور گویا مفکرانہ و مدبرانہ سوچ میں ڈوب کر سر جھکا لیا اور دوبارہ سر اٹھایا تو ایسے ہلایا جیسے اس نے اس دنیا کا کوئی اہم راز جان لیا ہو اور بولا یہ کوئی عام ہاتھ نہیں ہے ، ایسے ہاتھ کروڑوں ہاتھوں میں ایک ہوتا ہے اس پہ کوئی لکیر نہیں بلکل صاف ہے ، یہ نایاب ہے اور بہت خوشقسمتی کی علامت ہے ، اتنے میں کاکا بولا رمضو استاد کوئی نایاب ہاتھ نہیں یہ ،فاجے کے ہاتھ کی لکیریں کسی اور جگہ منتقل ہو گئی ہیں ، یہ سننا تھا کہ شمسے نے آواز لگائی رمضو کوڑا ہی اوئے ، اس پہ ہمارے قہقے اور رمضو کوڑا کے نام سے علاقے میں مشہور ہو گیا  ، اور ابھی تک اسی نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے لیکن  جب بلایا جاتا  تو پھر اس کی قوالی پورا بازار سنتا ہے ، تین مہینے بعد اس نے کالج کا راستہ چھوڑا اور چھ مہینے بعد  شہر، اور فاجے کا پچھلے پنچ پر بیٹھ کر الٹا ہاتھ ہمیشہ جیب میں رکھنے کی منطق بھی سمھ آئی۔  ،

اعزاز روز شام کو راجہ بازار نکل جاتا  ضروری کام کا بہانہ بنا کر ، ساجد عرف  مُلاں پیچھے اس کے خلاف فتوے ٹھوکنے شروع کر دیتا کہ یہ ضرور وہاں کچھ ہاتھ دکھاتا ہو گا ، اس پہ مُلاں کی بیستی خراب ہوتی کہ تجھے کیا لگے چاہے وہ ہاتھ دکھاتا ہو ،  ہاتھ کراتا ہو یا کرواتا ہو ، ، لیکن شک ہمیں بھی تھا کہ اعزازے کو یہ مفرد اعزاز حاصل تھا کہ وہ کالونی کے ایک گھر کی  دیوار  سے اترتے ہووے پکڑا گیا تھا ، ، محلے والوں اور پولس سے لترول کروانے کے بعد روتے وے  ہمیں بتایا کہ اصل بندہ تو اندر سے شور پڑنے پہ دروازے کے رستے نکل لیا تھا میں نے تو کچھ کیا بھی نی تھا ، میں تو دیوار پہ چڑھ کر صرف دیکھ رہا تھا     ، شور مچا تو مجھے دیوار سے اترنے میں دیر ہو گئی اور پکڑا گیا ،   ، خیر نام جو  اعزاز رکھا تھا اس کے ابے نے ، ستارے تو اس نے لگوانے تھے لیکن جگہ اس سے غلط سیلیکٹ ہو گئی تھی لگوانے کی بس  ،  ایک دن فون آیا اعزازے کا کہ میں ہسپتال میں ہوں پہنچو ، وہاں پہنچے تو اعزازے کی کوئی جگہ ایسی نی نظر آتی تھی جہاں اگلوں نے ڈنڈا نہ برسایا ہو ، اور سب سے زیادہ اس واحد جگہ پہ جو چھپی ہوئی تھی  اور اعزا الٹا پڑا تھا کہ سیدھا لیٹنے کی تشریف میں سکت نہیں تھی، پتہ لگا کہ موصوف زنانہ بازار میں رش والی جگہ پہ "نو گو ایریا "  میں ہاتھ لینڈ کرانے کی کوشش میں دھرا گیا تھا، اور اس پارٹی کی کال پہ سب بھائی لبیک کہتے وے اس پہ ٹوٹ پڑے ، اور دکاندار کا موقع پہ بیان کہ "روز اتھے مشکاں مارنے آندا اے" نے جلتی پہ تیل والا کام کیا ، ہسپتال میں پولیس بھی انتظار میں موصوف کی مہمان نوازی کرنے ، بڑی مشکل سے مک مکا کرایا ، پھر پھر اعزازے کا وہی رونا میں نے کچھ نہیں کیا تھا میں تو صرف دیکھتا تھا ،  وہ  ایک انٹرا وسکلر انجیکشن بزریعہ دست لگانے والا گروہ تھا  انٹرا وسکلر ٹیکے تو بچپن میں سب نے ہی لگوائے ہونے نہیں تو گیلانی اور شیری  کی ویڈیو سب کو یاد ہی ہونی، جو چلتے چلتے ہاتھ کی صفائی دکھا کر ایک طرف سے نکل جاتا اور متعلقہ پارٹی کو پیچھے مڑ کر دیکھنے پہ اعزاز  کی لعنتی شکل دیکھنے کو ملتی ، ، اس  ڈاکٹر گروپ کی ہاتھ صفائی سے اعزازے کی یہ حالت دیکھ کر مُلاں کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ بولا ، یار " تو ہتھ ہی لا لیندا کم تو کم " 

عینی میرے پچھلے محلے رہتی تھی  اور مجھے پہلا عشق اس سے ہونا لازم تھا کہ اس کے گھر کی پچھلی دیوار میرے گھر کے ساتھ مشترک تھی ، اور میری پتنگ اس کی چھت پہ اور اس کے کپڑے میری چھت پہ  (یاد رہاے سکھانے کے لیے لائے جانے والا کپڑے ) اکثر پائے جاتے ، عینی  نیڈو میرے بہترین دوست کے ساتھ ٹیوشن پڑھتی اور دانے یعنی عدنانے کی بہن کی پکی دوست تھی ، ، اور ہم تینوں یک جان تین قالب،  احساس ہوا کہ تینوں ہم  ایک دوسرے تیسرے سے کچھ چھپا رہا ، تینوں کو ایک دوسرے پہ یہی شک ،  عینی  چھت پہ مجھے ٹیم دیتی  ٹیوشن سے پہلے ، ٹیوشن میں نیڈو کو اور ٹیوشن سے واپسی پہ دانی کی بہن سے ملنے کے بہانے دانی کو ، ، عینی کی کیمسٹری کی پریکٹیکل کی کاپی میں نے ، فزکس کی دانی نے ،  اور بیالوجی کی نیڈو نے بنائی ،  تینوں اپنی جگہ اس کی محبت میں  شرابور تھے ، تینوں نے کنجوسی جو شروع کر رکھی تھی ، کہ نیڈو اس کو ایزی لوڈ کراتا ، دانی گفٹ بھیجتا اور میں کنگلا دوڑ دوڑ اس کے گھر کے کام کرتا چھت مشترک کے فائدے۔۔ ،
ایک دفعہ ہم تینوں روڈ  ناپ رہے تھے کہ عینی گزری  دانی ندیدو کی طرح  اسکو دیکھنے لگا ، نیڈو کو غیرت آ گئی اس نے کہا میری ہے ، میں نے چھلانگ ماری کہ میری ہے ، ، تینوں نے فیصلہ کیا کہ کل سیالی گرائونڈ میں پہنچ جانا فیصلہ ہو گا، اگلے دن ہم پہنچے پہلے تو دلیلیں اور خرچے و خدمت کے حصاب سے میری بنتی ، تینوں کے راز ایک دوسرے کے سامنے  کھلے بات ہاتھا پائی تک پہنچ آئی اتنے میں فرید عرف نائی  بھاگتا ہوا آیا  نہ ہمیں روکا ، نہ چھڑایا ، اتنا کہہ کر واپس  ہو لیا کہ عینی  جیلے کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی ، ہم نے اس کو گالیاں دیں اور  ایک دوسرے کو لاتیں اور مکے کہ ایک دم زہن میں آیا کہ کیا ، عینی بھاگ گئی اس چنگھڑ کے ساتھ ؟؟؟ جیلے  جہاز کے ساتھ ؟؟
صاحب ہر کسی کا ہاتھ دکھایا ہوا تکلیف دیتا ہے ، لیکن بچی جب ہاتھ دکھا جائے تو   بہت پھٹتی ہے صاحب ، وہ ہم تینوں کو ایک دوسرے کے سامنے کانا کر گئی ، کافی دن ایک دوسرے کے سامنے نی آ سکے ، اب بھی جب اگٹھے بیٹھتے ہیں اور اس کی ہاتھ دکھائی یاد آ جائے تو بیغرتو کی طرح دانت نکالتے ہیں ،  ،پھر تھوڑے سے شرمندہ اور پھر  قہقے 
      

November 25, 2012

نیئک محترم

میں ہسپتال کے پرائیویٹ روم میں کرسی پہ پیٹھ کر ہیٹر کی جالی کے ڈنڈے گن رہا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی اور میں شمار بھول گیا ، فون کرنے والے کو دو تین گالیاں دینے کے بعد میں نے فون اٹھایا اور نہایت اخلاق سے اسلام علیکم کہا ، آگے سے جو آواز آئی تو گویا کان کے پردے پھٹنے لگے  فون کو کان سے دور کیا ، سوچا کہ اتنی اونچی آواز سے بولنا تھا تو فون کرنے کی کیا ضرورت تھی براہ راست  بھی آواز پہنچ ہی رہی تھی ، دوسری طرف کوئی انتہائی تھکی ہوئی پنجابی میں ہمکلام تھا ، سلام دعا کے بعد پتہ چلا کہ نیئک کی فون ہے اور نیئک فیصل آباد سے اسلام باد آیا ہوا ہے ،  تفصیلات   پتا لگیں کہ نیئک کو ایک چھوٹا بھی میسر ہے گویا جوڑی پوری ہے ، اور نیئک جی ایٹ مرکز انے پہ رضا مند ہو گیا ، میں ہسپتا ل کے کاموں مین مصروف ہو گیا ایک گھنٹے بعد دوبارہ کال ائی میں کال ریسیو کر کے فورآ موبائل سے چھ فٹ دور کھڑا ہو گیا  تب کانوں کو کچھ سکون ملا ، پتہ چلا کہ نیئک بمعہ اپنے چھوٹے کے وہاں پہنچ چکا ہے ، جب میں نیچے گیا تو نیئک نے گیٹ کے باہر سے مجھے دیکھا اور پھر ایک طرف کو چھپ گیا ، گویا نیئک شرمیلی طبیعت کا مالک تھا ، میں چل کر نئیک کے پاس گیا ، نیئک واقعی نیئک تھا ، نیئک کا منہ جو پہلے سے کھلا ہوا تھا مزید کھل گیا نیئک ہینکی بینکی شخصیت کا مالک تھا ، ساتھ ہی نیئک کا چھوٹا تھا جو  بنا ہیلمٹ اتارے میرے سامنے کھڑا ہو گیا ، سوچا  شاید یہ نیئک سے بھی زیادہ شرمیلا ہے  ،   ، بمشکل چھوٹے کا ہیلمٹ اتروایا ، تو واہ جناب ، نیئک تو نیئک ، نیئک کا چھوٹا سبحان اللہ،،

خیر نیئک اور چھوٹے کو لیکر میں ہسپتال کے کمرے میں آ گیا ، وہاں مجھ پہ آشکار ہوا کہ نیئک بے وجہ نیئک نہیں بنا ، نیئک کی معاملہ فہمی ، سمجھداری اور مریض کی پرسش حال اور تسلی دینے کی مثال اس رہتی دنیا میں نہیں مل سکے گی ، نیئک نے میرے مریض کے سامنے پہلے تو موت کی باتیں شروع کر دیں ، پھر ساتھ حوصلہ بھی دیا کہ فکر نہ کریں یہ دوا دارو موت کو ایک منٹ بھی دور نہیں کر سکتے ، پھر مریض کے مرض کی مماثلت مین ایک اور مریض کا حال جب سنانا شروع کیا تو میرے مریض کی انکھیں باہر کو آنا شروع ہو گئیں اور رنگ پیلا پڑنا شروع ہو گیا ، موقع کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے میں نے گفتگو کا رخ دوسری طرف موڑ دیا ، لیکن سلام ہے نیئک کی عقل و دانش اور رازداری و پردہ داری پہ کہ جو ایک بات میں نے کسی کو نہیں بتائی تھی اسی کا زکر سب کے سامنے لیکر بیٹھ گیا ، مجبورآ مین نے استاز سے درخواست کی کہ باہر چل کر ہوٹل میں بیٹھتے ہیں
      ہم تینوں ہوٹل کی طرف چل پڑے ، راستے میں نیئک کا طرز گفتگو چبا چبا کر بولنا اور گلا پھاڑ پھاڑ کر ہنسنا ہر راہ چلتے کو ایسا بھاتا کہ گردن کو ایک سو اسی پر ایسے گھماتے کہ  چاہے گردن ٹوٹے تو ٹوٹ جائے لیکن  دیدار سے محروم نہ رہ جائیں ، ، راستے میں چلتے چلتے نیئک اپنے کندھوں ، کمر اور گردن کو ہر تھوڑی دیر بعد ایسی حرکت دیتا کہ گویا مائیکل جیکسن کے گانے ڈینجرس  کا سٹیپ کر رہا ہے اور مجھے بار بار دیکھنا پڑتا کہ نیئک کے کان میں ہینڈز فری تو نہیں لگے ہوئے ، ، پوٹل مین پہنچ کر گفتگو شروع ہوئی ، نیئک سے مل کرایسا محسوس ہوا کہ اس سے پہلی بار مل رہا ہوں یا نہیں لیکن یہ احساس ضرور ہوا کہ آخری ملاقات ہے،  چھوٹا ایک حالات کے ستائے ہوئے چھوٹے کی طرح چپ ہی رہا ، تھوڑی تھوڑی دیر بعد ایسی بات کرتا چھوٹی سی کہ پھر اس کو چپ کرانا مزید بھی ضروری ہو جاتا ، ، اس کی واحد بات جو مجھے پسند آئی وہ یہ تھی کہ وہ جاہل اور سنکی سے ملاقات کا متمنی تھا میں نے اسی وقت اسے دعا دی کہ وہ تجھے گود یعنی اپنی نئیکی میں لے لے۔نیئک کو ایک ایسی شخصیت کی کال آرہی تھی جو فیسبک و ٹویئٹر کا منٹو اور پطرس بخاری بننے کی کوشش کرتا رہتا یہ اور بات کہ سوچ اس نے جہازی پائی تھی۔ نیئک نے اس سے ملنے جانا تھا، صد شکر ہزار۔۔۔


  نیئک واقعی گہرے سانوے (سانولے رنگ سے معزرت کے ساتھ) رنگ کا آدمی تھا ، حالات نے شاید اس اسکو تپا تپا کر ایسا کر دیا تھا ۔

 

نیئک ہر موضوع پر بات کر سکتا تھا ، اور وہ بھی بغیر سانس لیے ، سانس کے بجائے اس کے منہ سے لعاب باہر آتا تھا ،وہ انتہائی کنفوزں سے بات کرتا تھا،، چاہے بات مرغ پالنے کی ہو یا بٹیر،  گھوڑوں کی مالش کرنی ہو یا کتوں کو نہلانا ہو ، نیئک جس کے متعلق بھی بات کرتا اس کی عزت تار تار کر دیتا ، پوری دنیا ہی اس کوپاگل دکھائی دیتی اور وہ واحد سیانا۔

 

 
تھوڑی ہی دیر میں اس کا چھوٹا سو گیا اور مجھے اس کی باتیں ایسے سننی پڑیں جیسے میں اس کا چھوٹا بن گیا ہوں جب وہ رخصت ہوا تو دل میں لڈو پھوتٹنے لگے ، واپسی میں دل میں یہی خیال آتا رہا کہ کوئی کالا کتا بھی اس کا چھوٹا نہ بنے۔



اور تو اور کسی نے مجھ پہ یہ احسان نہیں کیا ، میں نے خود نیئک سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور اب میں اپنے سوا کسی کو کوسنے بھی نہیں دے سکتا

 

پی ایس ۔۔۔۔

مجھے اسی روز ہی بلاگستان کی نیئر سلطانہ کا بھی فون ایا تھا ، وہ بھی ملنا چاہ رہا تھا اور اس ملاقات کے فورآ بعد یعنی اگلے دن ، اب سوال یہ کہ نیئر سلطانہ کون ، تو بات بات پہ نیئر سلطانہ کی طرح  رونے ڈالنا تو کوئی ان صاحب سے سیکھے  ۔
اب  نیئک سے ملاقات کے بعد نیئر سلطانہ سے ملنا  کا خیال
فیض نے کیا خوب کہا ہے

ہمت التجا نہیں باقی
ضبط کا حوصلہ نہیں باقی



October 21, 2012

گاڑی برائے فروخت

اندر باہر سے جینوئن ہے جی گاڑی ـ اپنے رنگ اور کمپنی کنڈیشن میں ہے ـاور پرانی گاڑی ہے سٹیل باڈی ـ اجکل کی کاریں تو پیپر باڈی ہیں لگی اور رول ہو گئی ـ پیس گاڑی ہے ـ سکریچ لیس ہے بلکل صاف ـ چابی لیں اور ڈرائیو کریں ـ روپے کا کام نہیں ہے گاڑی میں ـ رکھنے والی گاڑی تو ہے ہی یہی نئی کاریں صرف ششکے ہیں ـ پسند اپنی اپنی ہوتی ہے مگر مجھے بہت پسند ہے جی گاڑی اور آپکو بھی ضرور پسند آئے گی ـ بس اپنے دیکھتے ساتھ پسند کر لینی ہے ـ مٹھائی کا ڈبہ اور بیانہ تیار رکھیں ـ اور یہ قیمت یقین کریں صرف آپکے لیے ہے ورنہ اس سے  بیس ہزار اوپر مانگ رہا تھا اپنے بچوں کی طرح رکھا ہے مالک نے اس گاڑی کوـ

یہ وہ نقشہ تھا جو ڈیلر نے اٹھاسی کرولا کا کھینچا تھا ـ پرانی گاڑیوں میں اگر چہ زیادہ پرانی ہو چکی ہے مگر پھر بھی اچھی گاڑی سمجھی جاتی ہے خاص طور پر پہاڑی راستے اور کچے کے لیے ـ سو ڈیلر کی بتائی ہوئی گاڑی دیکھنے پہنچ گیا بمع چار دوستوں کے ساتھ جو جہاں بھی گئے چھت اور دروازہ انگلیوں کے ساتھ بجا کر واپس آ گئے پتہ انکو ککھ کا نہیں لگتاـ پہلی نظر جو گاڑی پہ پڑی تو خیال آیا کہ ہر کسی کو میں ہی ملا ہوں بنانے کے لیے ، پوری دنیا کو چونا لگانے کی مشق کرنے کے لیے میں ہی ہاتھ آیا ہوں ـ یا میرے ماتھے پہ بدھو لکھا ہے یا میں شکل سے وہ لگتا ہوں خیر نظر ڈیلر پہ ڈالی تو وہ روایتی ڈھیٹ پنے سے مسکرا دیا تھا گاڑی کی چھت سے رنگ اڑا ہوا تھا اور درازے کی ہتھیاں بھی رنگ کھو چکی تھی ـ پوچھنے پہ بتایا جی اپنے رنگ میں ہے ـ تیل لینے جائے ایسا اپنا رنگـ چاروں دروازوں پہ چابی کی سکریچیں ہوں گویا ـ  ڈیلر بولا او یہ لیکاں لُوکاں 
کل  ہی کوئی بچہ مار گیا ہے آجکل کے بچے بھی نا بس  ـ بادل نخواستہ باقی گاڑی بھی دیکھنے لگا سلف مارا تو گاڑی کھانس کر خاموش ـ آواز آئی کہ لوکا جیا چھنڈا مارو جی ـ دل چاہا کہ ڈیلر کو آگے جونت کر چھنڈا مروائوں ـ بمشکل سٹارٹ ہوئی گاڑی تو واقعی کمپنی کنڈیشن میں تھی کہ نہ اس کے بعد کوئی چیز تبدیل ہوئی تھی ابھی تک نہ ٹھیک سے ریپیئر ـ ہر جگہ مکینک نے جگاڑ لگا رکھا تھا اور چلتے وقت ہر چگاڑ دھاڑ رہا تھا ـ

ڈیلر بھانپ گیا بولا جی بس ہلکی پھلکی ٹک پرچون لگے گی میرا دوست بولا سر جی یہ تو آپ تھوک پرچون لگا رہے ہیں ڈیلر سمجھ گیا کہ سائنس فیل ہو گئی ہےـ جی وہ چھوٹے نے دیکھی تو اس کو ابھی اتنی سمجھ نہیں میں نے میں نے کہآ کہ بڑے کو بھیجنا تھا ـ وہ ہنس کر بولا کہ میں مصروف تھا میں نے کہا کہ میں تمھاری نہیں بڑے کی بات کر رہا ہوں ـ اب وہ بات آگے پیچھے کرنے لگاـ چھوڑیں سر آپکو ایک اور گھر کی گاڑی دکھاتا ہوں اپنی نظر کی گاڑی ہے وہ تو ـ دوست بولا نی جی ہمیں تو یہی گاڑی پسند ہےـ ڈیلر زرا پریشان سا ہو گیاـ ہم نے کہا جو بھی ہو گاڑی تو مظبوط ہے پرانی گاڑی میں اتنا ہتھ پلا تو کرنا پڑتا ہے ـ اس نے پوچھا واقعی؟؟ ہماری تسلی کرانے پہ پھر سے اسکی کہانیاں سٹارٹ ہو گئیں ہم نے کہا بیانہ کر لیں ـ پھر ہم نے جو ریٹ لگایا تو وہ غصے میں آ گیا بولا یہ کونسا ریٹ لگا رہے ہیں کہا کہ اپنے جو قیمت بتائی تھی اس گاڑی کی تھی جو منہ سے بتائی تھی اور ہم نے اس گاڑی کی قیمت لگائی ہے جو سامنے ہے ـ اور یہ بھی بیس ہزار اوپر لگائے ہیں صرف آپکی وجہ سےـ پھر منگوائیں مٹھائی وہ دانت پیس کر رہ گیا بولا جائیں آپ ـ یہ کہہ کر تھوڑا چلے کہ دوست نےپہچھے مڑ کر دیکھا اور پوچھا ـ اور مالک نے اپنی بچی بھی اسی حالت میں رکھی ہوئی ہے کیا ۔۔۔۔۔ قہقے

October 9, 2012

میری کانی محبت

 شکور کی نگاہیں  گُلی پر مرکوز تھیں ،  سڑک کے  بیچ دو اینٹوں کے درمیاں گُلی  نہایت توازن کے ساتھ رکھی تھی اور شکور کے ہآتھوں میں ترشا ہوا ڈنڈا اور شکور  کی آنکھوں میں خون  اترا تھا ، پورا محلہ جانتا تھا کہ شکور کے ڈنڈے سے نکلی ہوئی گُلی کا راستہ آج تک کوئی مائی کا لال نہ روک سکا ، جب شکور گلی میں ڈنڈا اٹھا کر آتا تو مائیں اپنے بچوں کو مرغی کہ ڈربے میں بند کر دیتیں کہ کہیں شکور کے ڈنڈے سے نکلی ہوئے گلی  سے خوف کھا  کر ان کے لال کی شلوار پیلی اور گیلی نہ ہو جائے
 شکور  کی دہشت  اس قدر تھی کہ جب  اسکا ڈنڈا  گُلی پہ بجتا تو اس کی آواز سے ہی محلے کے بلب فیوز  ہو جاتے  تھے، کھیل کے اصولوں کے مطابق کسی نے گلی سے بیس فٹ کے فاصلے پہ ٹھہرنا تھا سر پر کفن باندھ کر میں خود شکور کے سامنے آن کھڑا ہوا ۔۔ پیٹھ پیچھے چوٹ کھانا مرد کی شان نہیں سو پیٹھ شکور کی طرف کر کے تھوڑا سکڑ کر پیچھے ہاتھ رکھ لیے کہ گُلی پیٹھ پر نہ لگ جائے
 ،
   شکور کی نگاہیں گُلی پر مرکوز اور میری شکور پر ، کہ یکدم میری  نگاہ اٹھی اور ایسی اٹھی کہ اٹھی ہی اٹھی پھر پانج دن تک اپنی جگہ پر نہیں آ کر بیٹھ نہیں سکی ،کن اکھیوں سے شکور کی طرف دیکھا تو  وہ شکور کے پیچھے  سے چلتے ہوئے آ رہی تھی ، اس کی چال میں ٹڈی کا اچھال تھا ، ، اس کا رنگ ایسا ڈارک گوبری برائون کہ کرس  گیل  بھی اسکے سامنے  دھندلا جائے  ، ٹانگے جتنا قد  ، خوفصورت چہرہ ، بھیسن کی دم نما چٹیا، اس نے سابقہ سفید اور موجود  کالے رنک کے دوپٹے کو جو لہرایا تو اس کی گٹرانہ  خوشبو سے باد صبا  مدہوش اور پورا محلہ بے ہوش ہوتے ہوتے بچا ، اس کی بھینگی انکھوں میں جمی پالک کی  مستانگی ،  اس کے بل کھاتی کمر  کہ جیسے نچلا دھڑ اوپر والے دھڑ سے گویا کھسک گیا ہو ، ہو بہ ہو نانا کے ٹی وی کی طرح  جو آخری آیام میں اپنی تصویر ٹیڑھی کر بیٹھتا تھا اور جوتے کھانے پہ ہی سدھی ہوتی تھی تصویر،  اس کے چاکلیٹ کیچڑی پائوں ،   وہ جو مسکرائے تو پیٹ میں مروڑ پڑ جائے ،  اور اس پہ اسکی بے ڈھنگی جوانی ۔ اس کو دیکھ کر میرے سارے حور پری کے تصور دھرے کے دھرے رہ گئے
اتنے میں آواز آئی بچ اوئے اس سے پہلے کہ میں کوئی حرکت کرتا گُلی سنسناتی ہوئی آئی اور سینے پہ کھاتے کھاتے میں ناک  کی ہڈی تڑوا بیٹھا انکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا لیکن زہن پہ ابھی تک وہ حسینہ چھائی ہوئی تھی میری بے ہوشی کی خبر سن کر محلے والوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں ، شکور دہشت گرد سے ہیرو بن گیا ،   ہویش اتے ہی میں نے پہلا سوال اس کا کیا لیکن وہ جانے کس دیس سے آئی تھی اور کس دیس چلی گئی کسی کو خبر نی تھی کہ کہاں گئی ۔۔ 
   میں اس کے پیچھے گلیوں کی خاک چھانتا رہا ، کئی بھینسوں کے پیچھے اس کا گماں کر کے گیا لیکن بے سود ، ہر کھمبے کے نیچے ، ہر دوسرے چوک میں کسی نہ کسی سے پیار ہوا لیکن دل کو چین نہ آیا ، اس کی یاد میں شکور کے سامنے کھڑے ہو کر وہاں وہاں گُلیاں کھائیں کہ زبان پہ نہیں لا سکتا ، لیکن میری محبت نہیں ملی دوبارہ ، زمیں پہ دل نہ لگا تو مریخ پہ چلا گیا ، اڑن طشتریوں کے ٹائرں کے پنکچر لگاتا رہا ، خلائی مخلوق  نسوار بنا بنا کے دیتا، لیکن سب بے سود ، یادیں کہیں بھی پیچھا نی چھوڑتیں،ایک  کھسک رہ جاتی ہے زہن میں ، میں آج بھی جب گٹر کا پانی کسی گلی میں بہتا دیکھتا ہوں تو بہت یاد کرتا ہوں اس کو ۔۔ اپنے دل پہ اختیار ہی نہیں رہ رہتا  مجبورآ الٹی کرنی پڑ جاتی ہے، 

August 5, 2012

میرے متعلق

چونکہ فدوی  بچپن سے ہی کبھی مصائب الہامی  سے 'بےفکرمند'  نہیں ہوا اس لیے فدوی  'بےغم زدہ طبیعت' کا مالک بن گیا  ۔ اور ایسی مخمصے کی ہنس دکھ کیفیت پائی کہ کوئی جو خود ہنس رہا ہو مجھے دیکھے تو روتا ہوا سمجھے اور اگر خود  رو رہا   ہو تو مجھے  ہنستا ہوا سمجھے۔
اور یہ میرا دل  ،بلکہ کتے کی دم ، اس دل میں خواہشوں کے غول در غول  ہول اٹھتے  ہیں اس قدر کہ اگر عمرہ عیار کی  
زنبیل ، نیٹو سپلائی کے کنٹینرز اور مارکیٹ میں  سب سے بڑے والی ہارڈ ڈسک  میں بھی ان کو کوزوانا چاہوں تو جگہ کم پڑ جائے اور ہر خواہش آیسی مہنگی کہ  کسی ایک کو پورا کرنے لگو تو  فرعون کا خزانہ اور صدر صاحب کا بینک  اکائونٹ کم پڑ جائے۔ خیر کچھ ایسی بھی خواہشیں جو کہ نہ تو  بعید از قیاس ،نہ ہی   بعید ازرضامندی متعلقہ پارٹی اور نہ ہی فاصلے میں  بعید از دو تین فرلانگ  تھیں اور انکا شمار از من پسند خواہشات_ناجائزات تھا ۔لیکن ایک ازلی تھکاوٹ جو ہمیشہ سے میری گرویدہ رہی ہے ، اس قدر کہ صفحہ ہستی کو ایسا صفحہ سستی بنا  رکھا ہے جس میں ایک بھی سطر چستی نہیں۔ کوچہ جاناں پتہ نہیں کون جاتا ہو گا ۔ فرہاد کوئی زہنی مریض ہی ہو گا ورنہ ہم سے تو اس معاملے میں ککھ پن کر دو نہیں ہوئے کبھی ، سامنے والی کے لیے جتنی دیر میں ہم سیڑھیاں  چڑھ کر چھت تک جاتے ، اتنی دیر میں محلے کے کچھ جوانمرد اپنے خطوط بھی پہنچا چکے ہوتے  اور اگلی ملاقات کا متن اور جائے وقوعہ بھی کا بھی تعین کر چکے ہوتے۔ محلے کے میاں فصیحتوں نے بڑی نصیحتیں کیں کہ میاں چھوٹے موٹے کام سے کبھی کوئی نہیں مرا ، بھلے سے نہ بھی مرا ہو مگر رسک لینا کہاں کی دانشمندی ہے۔
پھر سفر چاہے انگریزی والا ہو یا اردو والا ہمارا واحد مشغلہ رہا ہے۔ سنا تھا کہ  سفر وسیلہ ظفر ہوتا ہے ، برسا ہا برس کے بعد ہمیں سفر سے پی ٹی اور کمر درد  ہی ملا ۔ البتہ پچھلے دنوں ظفر کی وسیلہ کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے ہوئے پکڑے جانے کی خبر اخبار میں پڑھی تو حقیقت کا پتہ لگا۔ سفر تو انتا کر چکا کہ کبھی سوچتا ہوں کہ زندگی سے سفر نکال دوں تو مجھ میں سے پیچھے ڈھائی سال کا  بغیر نیکر کے منہ میں چوسنی لیے بچہ ہی بچے گا۔




جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

July 12, 2012

خواہش


جب بلاگستاں قدم رنجا فرمائے تو نیواں نیواں ہو کہ آیا  وجہ اول تو یہ کہ ہر نئی جگہ جاتے بچپن سے ہی ہاتھ پائوں پھول   جاتے ، اور پھر دل میں کچھ اندیشے بھی تھےاول تو میری املا  ایسی کہ  جیسے عربی انسٹآل کر کے کسی نے اردو لکھنے کی کوشش کی ہو ۔املا میں 'ز' اور 'ض' میں عمر بھر کنفیوز رہا ،  یہی  کچھ 'س' اور 'ص' کا رہا ،
 " یہ راض آشکاروں کہ میری پہلی  صہیلی سائمہ بھی اصی وجہ صے ناراز ہوئی مجھ صے ۔ "
۔ چرواہے کو "چار وا ہا" اور  لکھنا تو کچھ بھی نہیں صاحب ، ایک روز استاد محترم نے اپنی جوتی کے ہاتھ مجھے بلانے کا پیغام بھجوایا ، استاد محترم بہت شفیق تھے کبھی خود نہ آتے جب بھی مجھے بلانا ہوتا اپنی جوتی اتار کر میری طرف اچھال دیتے اور پھر کہتے کہ یہ لے کر میرے پاس آ ، ایک بار جب  میں ان کے سامنے پہنچا تو میرے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے ، میرا دل موم ہو گیا ان کی بیٹی کا خیال آتے ہی ، میں نے کہا سر میں نے آپکو معاف کیا ، وہ بولے احمق تیرا کیا علاج ہے تو نے " ستارہ عمتیاز " بھی عین سے لکھا ہے ، ، میں نے کہا شریف خاندان کا چشم و چراغ ہو  ، محلے کی لڑکی ستارہ کے ساتھ اپنا نام لکھ کر اسکا  کردار  داغدار نہیں کر سکتا یہ اور بات کہ محلے میں زبانی کلامی ہر کسی کے سامنے اس کے نام کے ساتھ اپنا نام ہی لگاتا کرتا تھا ، لیکن دستاویزی ثبوت رکھنے کی غلطی کبھی نہیں کر سکتا تھا یہ اور بات کہ صرف زبانی پہ بھی کافی کچھ ہو گیا تھا میرا ساتھ ۔ 

زمانہ لاعلمی میں اقوام کی جمع اقوامیں ، زہن کی حمع ازھان   اور عوام کی جمع اعوائم اور تراکیب و محاورے 'اونچی   'دکان  کا چھوٹا دکان دار'  اور 'ہينگ لگے نہ پھٹکری  اور نائی کی شیو بھی خوب آئے'  مکمل کیے تو استاد محترم  نے مجھے بابائے اردو بےادب' کا خطاب دے دیا ، اور مجھے بڑے پیار سے بولے کہ تو انتائی' غیر متوقع اردو بولتا ہے ، اتنی میٹھی عزت جس کی سمجھ مجھے ابھی کچھ  دن پہلے یعنی دس سال بعد سمجھ آئی میری دور اندیشی کی عمدہ مثال ہے ۔ پھر پھٹکری آج تک سوائے نائی کے کسی کے پاس استعمال ہوتے نہ   دیکھی نہ سنی ، اور پھر محاورے بنانے والے تو  جہاں محاورہ  منہ لگے وہیں لکھ لیتے ہیں کہ دوبارہ ویسا نزول    ممکن نہیں ہوتا  تو ان میں خالی جگہ پر کرنے کے کیا معنی اور پھر خالی جگہ دیکھ    کر جو الفاظ میرے زہن میں  وقوع زیر ہوتے ہیں وہ استعمال کردوں اگر تو ایک بار تو امتحانی پرچہ بھی پھڑ پھڑا اٹھتا ۔ 


 ان حالات میں جب بلاگستان میں قدم رکھا تو زہن میں یہی  خیال تھا کہ یہاں  استاتزہ ملیں گے تو میری  ، بھی اردو سنور جائے گی یہاں  اخلاق ،صداقت اور حق جیسے بلاگر ہوں گے جو میری روحانی تربیت کریں گے ، شگفتہ اور شائستہ ایسے کہ میں بولوں گا تو زبان سے شیرینی  ٹپکے گی اور سامنے مکھیوں کا ڈھیر لگ جائے گا ،   بلاگر کوئی ایسا استاد ملے گا جو ابتدا سے اردو کے اسرار و رموز مجھ پہ آشکار کرے گا ، کوئی ایسا عالم دین  صفت  ہو گا کہ میریے اندر کی دنیا روشن کر دے گا، کوئی دانا مجھے حکایات سعدی  کے سبق  آموز قصے سنائے گا ،  کوئی پطرس جیسا لطیف مزاح کی روح میری طبیعت کا خاصہ بنا دے گا۔ عرض میں ایک ششماہی پروگرام  میں ایسا ہو جائوں گا، محلے والے میری  مثالیں دیا کریں گی ، عورتیں دعائوں میں  اپنے بیٹوں کو مجھ جیسا اور لڑکیاں اپنے خوابوں میں مجھ جیسا چاہا    کریں 


لیکن صاحب ایک سو گیارہ خواب آنکھوں میں سجا کر جب یہاں پہنچا  تو یہاں ادب آداب اور حسن سلوک    کی مثالیں تو ایک طرف ، ملے ہی ایسے کہ جن کا تعارف ہی بد تمیز تھا اور جن کا اوڑھنا بچھونا اور منہ کھولنا ہی بد تمیزی تھا ، سستے مزاق سے جان چھڑانا چاہتا تھا تو یہاں ملے ،ایسے  ڈفرانہ ڈرامے  کہ  ہر بات  چھ معنوی ہونے لگی اور خواہش  اور جو مولبی ملا تو ایسا کہ اس کے انگریزی اے بی سی اور اس کے ایبریویشنز ہی ختم ہونے کا نام نہیں لیتے تھے ، حکایات رومی و سعدی اور سعدی کی بکری کا زکر تو کیا ہوتا ، لالے کی بکری کے تزکرے ہی ختم ہونے کا نام نہ لیتے ، اور اردو میری کیا خاک ٹھیک ہوتی کہ  جعفری    قاعدہ پڑھ کر جو تھوڑی بہت الف بے آتی تھی وہ بھی جاتی رہی۔ طبعت میں لطافت کیا آتی کہ یہاں تو ہر وقت چخ چخ چخ ۔ پہلے تو  زرا دھچکا لگا پھر خوشی سے پھولا نہ سمایا  اور  سب اپنا اپنا پایا تو نعرہ لگا موج ملنگاں دی۔۔


June 21, 2012

لائف ان آ ۱۲ بائے ۱۲

 نوٹ:لکھ کر دوبارہ نہیں پڑھا گیا بے شمار غلطیوں کے لیے معزرت۔

مجھے پہلے ہی خاصی دیر ہو چکی تھی اور اس کے فون بھی آ رہے تھے بار بار ، وہ میرے پہنچتے ہی بیگ کے ساتھ ہی گیٹ پہ آگیا میں نے ایک نظر اس کو دیکھا تو  تھکن اس کے چہرے سے عیان تھی ، اس نے مجھے جلدی سے کچھ باتیں بتائیں اور چل پڑے جیسے اسے بہت جلدی ہو جانے کی اس کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوا کہ میرے یہ اگلے کچھ دن کچھ اتنے آسان نہیں ہوں گے۔
 ،
   کمرے میں داخل ہوا تو بدبو تھی وہاں اتنی زیادہ کہ ایک لمحے کو تو سانس بھی رک گیا ، کمرے کا جائزہ لیا تو سامنے ایک چارپائی دو پرانی کرسیاں ، ایک چھوٹی صندوق اور ایک فریج اور سامنے دیوار میں ہی آلے جن میں برتن اور کچھ سامان پڑا تھا ۔ ایک کونے میں ایک پلنگ اور اس پر ایک زندہ لاش پڑی تھی ۔ پلنگ کے سامنے ایک میز پر دو لفافے تھے جن میں دوائی اور کچھ پرچیاں تھیں جن پر دوا کی ہدایات لکھی ہوئی تھیں۔ میں نے بیگ سے ایئر فریشنر نکالا اور فضا میں سپرے کر دیا لیکن اس سے کوئی خاص فرق نہ پڑا لیکن تب تک میں اس بدبو کا عادی ہو چکا تھا اور وہ بتدریج مجھے غائب ہوتی ہوئی محسوس ہونے لگی ۔ مجھے ایک کوڑا جننے والے بچے کی بات یاد ا گئی جب اس سے سوال کیا گیا کہ اس کو کوڑے کے ڈھیروں سے بدبو نہیں آتی تو وہ بول کہ یہ بدبو اس کے جسم میں داخل ہو گئی ہے اس کے نفس کو مار دیا ہے میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا تھا۔۔
   یہ سردیوں کی شام تھی سو اندھیرا جلد ہی پھیل گیا کمرے میں گیس کا ہیٹر پہلے سے ہی جل رہا تھا ، باہر نکلنا یا دروازہ کھلا رکھنا بھی مکن نہیں تھا مجھے لگا کہ میری یہ رات بہت سخت ہو گی کیونکہ اتنی سردی میں میرا یہاں پہلی بار آنا ہوا تھا میں نے اپنے بیگ میں ایک ناول ،  موبائل کا  جارجر اور ٹیبلٹ معہ ہیڈ فون  لایا تھا کہ وقت اچھا گزر جائے گا کہ یہاں تین دن گزارنے تھے مجھے۔  اور اسی کمرے کے اندر باہر شدید سردی تھی اور اگر نہ بحی ہوتی تب بھی مجھے کمرے میں ہی رہنا تھا ، مجھے یہ دنیا ہی کوئی اور دنیا   بلکہ یہ کمرہ ہی مجھے میری کل دنیا لگی ، ایک وہ دنیا تھی جس کو میں کچھ لمحے پہلے چھوڑ کر آیا تھا جس میں وسعت ہی وسعت تھی آزادی ہی آزادی ، اور ایک یہ قید جہاں سانس لینا بھی مشکل تھا ۔ مگر اس اتنی وسیع دنیا میں بھی میں نے فرار کی اتنی راہیں تلاش کر رکھی تھیں ، دوست ، کتابیں ، فلمیں ، کھیل اور جانے کیا کیا ، خود کو مصروف رکھنے کے لیے ۔ لیکن یہاں تو سب مختلف تھا البتہ وقت تھا یہاں کہ میں وہ کام کر سکوں جو کرنا چاہوں ۔ لیکن عجب حالت تھی کہ کچھ بھی نہ ہو سکا مجھ سے ، اس دنیا میں جہان سب کچھ تھا میرے لیے میں اپنے کچھ کنٹیکٹس کے ساتھ گھنٹوں فون پر بات کر لیتا تھا پورا پورا دن ٹیکسٹنگ کرتے گزرری ، کوئی کتاب اتھا لیتا تو  جب تک ختم نہ ہو جاتی نہ کھانے کا ہوش نہ سونے کا ، کوئی فلم سیریز یا سیزن  شروع کرتا تو ختم ہونے تک چین نہ آتا ، اسی خیال سے ناول ، ٹیبلٹ اور موبائل چارجر وغیرہ ساتھ لایا تھا کہ جو دل چاہا کر لوں گا۔ لیکن ان چیزوں کو دیکھتے ہی اکتاہٹ ہونے لگی ۔ بے معنی لگنے لگیں یہ سب چیزیں ، شاید یہ ساری چیزیں اس ایک کمرے کی دنیا میں مس فٹ تھیں۔ تینوں کام کرنے کی کوشش کی  لیکن دوسرے ہی لمحے ہی بیزار ہو گیا   
کونے میں پڑی مردہ لاش کھانسی ، شاید اس کی دوا کا جو اثر ختم ہو چکا تھا ، اور اب وہ محسوس کر سکتی تھی اپنے ارد گرد چیزیں ، اس نے میری طرف اجنبی نظروں سے دیکھا اور پوچھا کہ کب آئے ہو ۔ میں نے اسکو پانی پلایا پھر ہر آدھے گھنٹے بعد وہ مجھے اجنبی نظروں سے دیکھتی  اور زندہ لاش پوچھتی کہ کب آئے ہو ۔ شاید اس کو کسی کا انتظار تھا  یا راہ دیکھ دیکھ کر اس کی گمشدہ یاداشت میں بس یہی جملہ بچا تھا ، جو وہ ادا کر دیتی  ، میں جب بھی یہاں آتا تو سوچتا کہ شاید وہ اگلی بار نہیں رہے گی ، اور دل میں یہ خواہش بھی ہوتی کہ وہ نہ ہی رہے ، لیکن جانے کیوں اس کی سانسوں کی آخری ڈوری ٹوٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔ میں نے فریج کھولا  اس کے کھانے کے لیے چیزیں جمع کیں  اور کمرے کے سامنے چھوٹا سا کچن تھا  اسمیں گرم کیں اور اس کو کھلانے لگا ، اس کو وہ خوارک بھی حلق سے اتارتے مشکل پیش آرہی تھی  بے بسی  اس  زندہ لاش کی انکھوں سے جھلک رہی تھی اور تھکن ماتھے کی سلوٹوں سے واضح تھی ۔
زندگی ایکسپلور تو کرنے والے تو ملکوں ، سمندروں اور جزیروں پہ گھومتے ہیں لیکن  جس نے زندگی کو سمجھنا ہو وہ اس بارہ ضرب بارہ کے کمرے میں آ جائے ، کچھ تلخ ترین حقیقتیں اس کی زندگی بارے ساری غلط فہمیوں اور خوش فہمیوں کو منٹوں میں ملا میٹ کر دیں گی۔ میرے سوچ یکدم بہت سمٹ گئی تھی میں جانے کتنی دیر  زندگی اور بے بسی کا آپسی تعلق سوچتا رہا۔ حیرت انگیز طور پر رات گزرتی ہی جا رہی تھی ۔ میں نے ساچا تھا کہ ایک ایک لمحہ رک جائے گا لیکن ایسا کچھ نہ ہوا مجھے شدید احساس ہوا کہ وقت کٹ ہی جاتا ہے اوررات گزر ہی جاتی ہے ،  اور نیند بھی آ ہی جاتی ہے ۔رات کے کسی پہر میری انکھ لگ گئی صبح انکھ کھلی دستک سے زندہ لاش کے کپڑے بدلنے والا ایا تھا  اور اس نے آدھے گھنٹے میں یہ کام اور کچھ صفائی کرنی تھی  اور اسی وقت میں مجھے اپنے باہر کے کام کرنے تھے کھانا وغیرہ کھانا تھا باہر جا کر کہ کل سے کچھ بھی کھایا پیا نہ تھا اور زندہ لاش کے لیے بھی کچھ لے کر جانا تھا میں جلدی  سے انے والے کو ہدایات دے کر باہر نکلا گھنٹوں بعد تازہ ہوا میں آیا تو  میرا دم سا گھٹنے لگا  ۔۔۔۔۔

January 26, 2012

خدائی ردھم

سانسیں ۔ مستقل طور پر چلتی ہوئیں - ایک مناسب  وقفے کے ساتھ ۔ ابتدا کی سختی سے نالاں نہ ہی انجام سے وحشت زدہ - بس اپنی ہی دھن میں برابر چلتی رہتی ۔ نہ اتنی تیز کہ خود کو تھکا ڈآلیں نہ اتنی سست کہ ان کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے ۔ نہ  تھکن کوئی نہ عجلت ۔ نہ اتنی خاموش کہ لاشعور ہی ان کی آواز سے بیگانہ ہو جائے اور نہ اتنی آواز کہ کانوں میں مدھم سی آواز کو بھی آنے سے روکیں۔ ا ایک لڑی میں پروئی ہوئی نہ اتنی مختصر کہ شناخت ہی کھو دیں نہ اتنی طویل کہ   خود میں ہی الجھ جائیں۔ سانسوں کی مالا حیات کو رواں رکھے ہوئے ایک ساز ایک ردھم ایک تسلسل دیئے ہوئے ایک ایسا خدائی ردھم جس میں مست انسان کے جسم کا ایک ایک حصہ اپنی مستی میں کام کر رہا دوسرے حصوں کے ساتھ مل کر ایک بہائو میں اس طرح کہ جب تک یہ سانس چلتی رہیں جیات چلتی رہے جسم حرکت کرتا رہے یہ ردھم ختم تو سکوت ، خاموشی ، زندگی ختم۔ سانسیں انسان کا پہلا  عملی سبق۔

January 18, 2012

میلنکلی


یہ تب کی  بات ہے جب میں شاید سولہ برس کا تھا سکول کی چھٹیاں تھیں سردیوں کی اور گائوں آیا ہوا تھا ۔ رات کو بیت خلا جانے کی حاجت ہوئی تو گائوں میں نقشے وغیرہ تو تھے نہیں اور بیت الخلا بھی بعد میں باہر کی طرف بنا ہوا تھا میں خاموشی سے اٹھ کر جونہی باہر نکلا تو سامنے ایک عورت کو کھلے بالوں کے ساتھ بہت وحشی انداز میں دیکھ کر میری حالت خٔوف سے غیر یو گئی ایک لمحے کے لیے کانپ ہی گیا لیکن خوش قسمتی کہیئے کہ جاندنی رات تھی اور میں پہچان گیا کہ یہ چڑیل نہیں ماسی باگاں ہے لیکن ماسی بھاگاں سے  بچے تو کیا اکثر بڑے بھی ڈرتے تھے مشہور تھا کہ اس کو سردیوں کے موسم میں جن یا پری آ جاتی ہے اور گرمیوں میں چلی جاتی ہے۔ سخت سردی میں ماسی بھاگاں نے صرف عام سے 
کپڑے ہی پہن رکھے تھے اور چپل لیکن وہ بال کھولے ایک عجیب اور سرور و مستی کی کیفیت میں تھی اس نے ہاتھ کھول رکھے تھے اور اس کے بال تیز ہوا میں اڑ رہے تھے اور وہ تیز ہوا کے طمانچوں کو اپنے چہرے میں محسوس کر رہی تھی اور ایک عجیب سی سرشاری تھی اس کے چہرے پہ۔ اس نے مجھے یکسر نظر انداز کیا اور چلی گئی۔ میں اس کو جاتا دیکھتا رہا میں نے اس کے جانے کے بعد اس کی سی کیفیت میں ویسے ہی ہوا کو محسوس کرنا چاہا مجھَے بہت عجیب سا احساس ہوا ، اگلی صبح مجھے بہت تیز بخار تھا۔۔
ماسی باگاں گرمیوں کے موسم میں گھر کے سارے کام کرتی تھی   ساتھ بکریاں اور بھینسیں پالنا ، لکڑیاں کاٹنا اور کھیتوں میں گاس وغیرہ سبھی اور بہت اچھی طرح ملتی ملاتی سب سے۔ لیکن سردیوں میں جاڑے کے موسم میں ماسی بھآگاں کی طبیعت عجیب ہو جاتی تھی سب کہتے کہ یہ جن آسیب یا کوئی پری ہے ماسی کے ساتھ جو صرف جاڑے کے موسم میں آتی ہے کہونکہ ماسی جوانی میں اس موسم میں رات کو کام کرتی تھی
میں فرسٹ ایئر میں ہاسٹل میں تھا تو مشتاق صآحب میرے استاد محترم مجھَے  سریوں کی راتوں میں رات گئے بلا لیا کرتے تھے جہاں چھوٹی سے محفل ہوتی میرے کچھ اساتزہ کی ۔ وہ مجھے فیض کا نسخہ ہائے وفا کا کوئی حصہ بتاتے اور میں پڑھتا ۔ میری اصلاح بھی کرتے پڑھنے کا سلیقہ بھی انہی سے سیکھا۔
لیکن وہ ایک بات کہتے ہمیشہ کہ شاہ جی راتوں میں تیرا لہجہ عجیب ہو جاتا ہے ۔ وہ  سب بہت مسحور ہو کر سنتے مجھے ۔ خود بھی  بہت کچھ  سناتے ۔مجھے کم ہی کسی چیز کی سمجھ آتی تھی تب۔
وہاں انگریزی کے استاد حمید الرحمن صاحب بھی آتے انہوں نے مجھے ہیملٹ دیا اور کہا کہ یہ پاس رکھو، پڑھو اور سمجھو ۔ میرے لیے وہ پڑھنا ممکن نہیں تھا ۔ سمجھ کہاں آنی تھی مجھے ۔انہوں نے مجھے ہیملٹ کا کردار اور پوری کہانی سمجھائی پھر پڑھایا بھی کافی حد تک  مجھَے۔ میں نے اس کی ایک پرانی فلم بھی دیکھی اور ہیملٹ  میرے زہن میں رچ بس گیا۔  مجھے اپنی زات کا عکس نظر آنے لگا ہیملٹ میں اور آج بھی آتا ہے ، میں اب بھی سردیوں کی رات میں جاگ اٹھتا ہوں رات گئے ۔ اور مجھے یہی لگتا ہے گویا میں ہی ہیملٹ ہوں ۔ اور میں اپنے زہن کے بھوت سے ہمکلام بھی ہوتا ہوں  ، ہر وہ زہن جس میں میلنکلی ہے وہ ہیملٹ کا ہی کردار ہے  اور ہر زہن  کے ساتھ ایک بھوت ہے ، اور یہ ہوتا بھی اسی موسم میں ہے ۔ اسی موسم میں مجھے فیض دوبارہ سے یاد آتا ہے۔ میں پوری پوری رات اس کو پڑھتا رہتا ہوں۔عجیب بے قراری اور بے چینی سے ہوتی ہے۔ ایک بے چین روح کی طرح مچلتا رہتا ہوں، اس کے ساتھ انہون نے مجھے آئن سٹائن کا "دا ورلڈ ایز آئی سی اٹ" انتہائی تفصیل سے سمجھایا لیکن میرا زہن اس کو قبول نہ کر سکا۔ ۔مجھے نہیں معلوم مشتاق صآحب اور حمید الرحمن صآحب نے دانسہ مجھے ہیملٹ اور فیض  میں دھکیلا یا مجھَے اس کی ضرورت تھی ۔ شاید مجھَ اس کی ضرورت تھی۔ یہ میری میلنکولی کو اطمینان دینے کی راہ تھی بلکل ایسے ہی جیسے مائی بھاگاں اپنی میلنکولی کو پر سکون کرنے کے لیے سرد راتوں کو تیز ہوائوں اور سردی سے جا ٹکراتی تھی

پچھلے دنوں پتہ چلا کہ ایک سرد رات کو ماسی بھاگاں ایک کھیت میں ٹھٹھر کر مر گئی ۔ سب اس کی ایسی موت پر افسوس کر رہے تھے لیکن مجھے لگا کہ ماسی نے خود ایسی موت چاہی تھی ۔ اس سرد رات میں تیز ہوائوں کی چبھن اور سردی نے مائی کی مینکولی کو اتنا  مطمئن کیا کہ اس نے اسی سرور میں اپنی جان دے دی۔
مرنا سب نے ہی ہوتا ہے لیکن مائی  نے اپنہ مرضی کی موت لی ۔ ایک ایسی کیفیت کے دوران کہ جو وہ صرف اپنے لیے کرتی تھی، اس کی بے چین روح کو جاڑے کی سرد راتوں میں ہی سکون ملتا تھا ۔مجھَے اس کی موت کا کافی دکھ ہوا کہ مجھے میری میلنکولی سے روشناس کرانے والی ماسی بھاگاں ہی تھی۔

December 29, 2011

ماہ و سال

لو جی یہ سال بھی گززر گیا ہے ۔ اپنی ٹو ڈو لسٹ جو سال کے شروع میں بنائی تھی اس کو کھولا تو پتہ لگا کہ جو کام اس سال پورے کرنے کی ٹھانی تھی جوں کے توں اپنی جگہ پہ موجود ہیں۔ ان کو مکمل تو کیا ان کو ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا۔ ہاں البتہ  کچھ تبدیلیاں دو ہزار دس کی لسٹ میں ضرور ہو گئیں ہیں وہ کام جو 2010 کی ٹو ڈو لسٹ میں اپنی طرف سے پورے کر چکا تھا وہ دوبارہ سے منہ کھول کر سوالیہ نشان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔پچھلے کچھ سالوں کی ٹو ڈو لسٹ کھولی تو دیکھا کہ قریب ایک ہی طرح کی چیزیں ہیں میری ٹو ڈو لسٹ میں کسی کو ایک سال پورا کر دیتا ہوں اور کسی کو اگلے سال اور پھر دوبارہ کسی سال کھول کر نئے سرے سے انی کاموں کا اندراج کر لیتا ہوں اور ایک ہی چکر میں گھومے جا رہا ہوں ۔ شاید کنویں کا مینڈک یہی ہوتا ہے۔
اب سوچ رہا ہوں کہ اگلے سال کی ٹو ڈو لسٹ بنانی ہی نہیں ہے میرے خیال سے ٹو ڈو لسٹ سے کچھ خاص حاصل نہیں ہوتا سوائے اسکے کہ ہر تین مہینے بعد کسی رات آپ بھڑک کر اپنی ٹّوڈو لسٹ کھول بیٹیھیں اور خود کو گھنٹہ دو گھنٹہ کوسنے اور برا بھلا کہہ کر پھر لمبی تان کر سو جائیں۔ کسی سال سے میں ہم کیا حاصل کرتے ہیں اس کا تعین کرنا کبھی کبھی بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
اپنے ماہ و سال بھی کبھی اپنی گرفت سے نکلے دکھائی دیتے ہیں گویا ہم انہیں نہیں وہ ماہ و سال ہمیں گزار رہے ہیں۔ ہمیں گزرتے سالوں کا شمار نہیں رہتا اور ان کے گزرنے کی تصدیق کے لیے ہم مختلف ریفرنس رکھ لیتے ہیں ہر کسی کا ہر عمر میں اپنا ہی ایک ریفرنس ہوتا ہے۔ میرے لیے سب سے آسان زمانہ طالب علمی تھا ہر سال ایک نئی کلاس ، ہر سال میری  بدلتی جماعت میرے  لیے نئے سال کی خوشخبری ہوتی تھی اور سال بھر کا خلاصہ تین مہینے کی چھٹیاں ، گائوں جانا ، سکول کے ٹرپ کی داستان ، اپنے سکول کا گیمز پیریڈ، سالانہ گیمز اور سکول کے وہ فنکشنز جن میں حصہ لیا ہوتا وہ تھے۔پھر گزرتے وقت کے ساتھ خلاصہ ختم اور صرف سال کے گزرنے کا ریفرنس رہ گیا ۔ اور اب تو اس کا احساس بھی مدہم ہو گیا ہے۔
 اپنے ایک دوست سے پوچھا تو وہ اپنے سالوں کا ریفرنس اپنے بیٹے کی نئی جماعت کو رکھ چکا ہے جب اس کا بیٹا اگلی جماعت میں جاتا ہے تو اس کو احساس ہوتا ہے کہ ایک سال گزر گیا ۔ میرے خیال سے تو اسکو  اپنے بیٹے کا احسان مند ہونا چاہیے کہ وہ پاس ہو جاتا ہے ورنہ میرے جیسا زہیں برخودار  ہوتا تو ایک جماعت میں تین سال تو کم سے کم لگاتا۔ اور ان  حضرت کا ایک سال تین سالوں کے برابر ہوتا ، کوئی اپنے ریٹائرمنٹ کے سال گن رہا تو کوئی اپنی پروموشن کے ۔پردیس میں رہنے والے واپس گھر آنے کو اپنا ایک سال سمجھتے ہیں چاہے وہ ایک سال بعد آئیں یا تین سال بعد ، کوئی چہرے کی جھریاں شمار کرتا ہے تو کوئی بالون مین اتری چاندی۔ غرض ہر کسی نے ایسا ہی کوئی نہ کوئی کھوکھلا سہار رکھا ہوا ہے ان سالوں کے شمار کا ۔۔
  مجھے کبھی کسی سے ایسا جواب نہیں ملا جس کو سن کر میں نے سوچا ہو کہ ہاں یہ سال اس آدمی کا تھا اور اس نے سال کو گزرتے ہوئے محسوس کیا ۔ ہر کوئی اپنے سال کا اثاثہ  بتانے سے قاصر نظر آتا ہے۔

December 12, 2011

بکری والی ٹکر

ایک شیر کا بچہ شیروں کے گروہ سے علیحدہ ہو کر کھو گیا ، چلتا پھرتا وہ بکری کے ریوڑ میں شامل ہو گیا اور انہی کے ساتھ پل کر بڑا ہونے لگا انہی کی طرح چال ڈھال اور آواز بھی اختیار کر لی، ایک دفعہ بھیڑیوں نے بکریوں کے ریوڑ کو گھیر لیا  یہ دیکھ کر شیر کو بہت غصہ آیا جب بھیڑیوں نے بکریوں پر حملہ کیا تو شیر کا غصہ شدید ہو گیا اور اس نے دھاڑ کر شیروں والی آواز نکالی ، آواز سنتے ہی بھیڑیے سہم گئے شیر دھاڑتا اور غضب میں تیزی سے بھیڑئیے کی طرف بڑھنے لگا ۔ قریب پہنچ کر شیر نے بھیڑئیے کو  زور سے بکری کی طرح ٹکر مار دی
نوٹ:- بچپن میں یہ کارٹون سٹوری دیکھی تھی اور  اس کا اینڈ یعنی بکری والی ٹکر (وہ بھی بغیر سینگ کے) تب سے "ان فار گیٹیبل "  ہے اور جب سے جاب سٹارٹ کی ہے میں خود بھی یہی کر رہا ہوں۔  

November 10, 2011

کردار

رات کی تاریکی میں سڑک کے کنارے کھمبے پر لگے بلب کی تیز پیلی روشنی میں  اس کے سائے کا قد اس کے اصل قد سے کئی گنا بڑھ چکا تھا لیکن جیسے ہی وہ روشنی سے دور ہوتا گیا اس کے سائے کا قد گھٹتا گیا حتی کہ اندھیرے میں پہنچ کر اس کے قد کا سایا ہی نہ رہا۔

November 9, 2011

تیرا دل تو ہے فلم آشنا

ہاسٹل میں ہمارے وارڈن صاحب حو کہ اردو ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ بھی تھے ان سے کافی علیک سلیک ہو گئی اس کی ابتداء یوں ہوئی کہ جب سٹڈی آور میں وہ کمروں کا چکر لگانے آیا کرتے تو میں لمبی تان کر سو رہا ہوتا لیکن بلکل کمرے کے دروازے کے سامنے میز پر ایک شاعری کی کتاب رکھ دیا کرتا وہ دروازہ کھول کر مجھے سویا دیکھتے اور کتاب اٹھا کر لے جاتے آگلے دن کتاب واپس لے آتے ۔ میں اپنی دانست میں ان کو یہ رشوت دیا کرتا ، پھر جب کبھی جاگا ہوتا تو کافی دیر ان کے ساتھ گپ چپ ہوتی ۔ باقی دوستوں نے جب دیکھا تو وہ کہتے کہ روز ہی محفل جما لیا کرو سر کے ساتھ کہ اسی بہانے سٹڈی آورز نکل جایا کریں گے بطور رشقت وہ کینٹین میں میری سیوا کیا کرتے کیونکہ سٹڈی آورز میں جو پڑھائی نہیں کر رہا ہوتا تھا وہ جرمانہ ادا کرتا تھا۔ آہستہ آہستہ  سر مشتاق سے کافی دوستی ہو گئی اور ان کے وارڈن لاج میں جا کرخوب محفل جمتی جہاں اور بھی اساتزہ اور سینئر سٹوڈنٹس آئے ہوتے 
کچھ عرصے بعد کالج میں ایک تقریری مقابلہ منعقد ہوا جس میں سنجیدہ تقاریر کے ساتھ ساتھ مزاحیہ تقاریر بھی تھیں۔ اور میں نے کچھ عرصہ پہلے ہی ایک یونیورسٹی کے ایک ایسے ہی مقابلے میں پہلے نمبر پر آنے والی مزاحیہ تقریر کا مسودہ حاصل کیا ہوا تھا سو میں پہلے ہی تیار بیٹھا تھا ۔ اس کا عنوان تھا 
"تیرا دل توہے فلم آشنا ، تجھے کیا ملے گا نماز میں"  
تقریر کا وقت آیا  ججز میں سر مشتاق ہی بیٹھے تھے تقریر کے اختتام پر پہلا انعام ملا سب نے خوب سراہا  ، مجھے انتظار تھا شام کا کہ سر مشتاق سے ملوں شام ہوتے ہی ۔۔
شام کو میں وارڈن لاج میں گیا سر مشتاق اکیلے ہی تھے مجھے دیکھتے ہی وہ غصے سے لال پہلے ہو گئے کہنے لگے تمھاری ہمت کیسے ہوئی اقبال کے مصرعے کا مزاق آرانے کی ، تمھاری نسل صرف اجداد کا مزاق آڑانا جانتی ہے ، ان لوگوں کو جنھیں تمھارا رہبر ہونا چاہیے تم کیوں ان کو مسخرہ بنانا چاہتے ہو۔ اپنے آنے والی نسل کو کیا بتانا چاہتے ہو کہ اس ملک کی تاریخ میں صرف جوکر گززرے ہیں یا یہ سکھانا چاہتے ہو ان کو اپنے بڑوں کی ہر بات کو مزاح کا رنگ دے کر اس سے تفریح لیتے پھرو۔یہی رجحان ہے جو معاشروں میں کینسر کی طرح پھیلتا ہے اور پھر ہر طرف بے حسی پھییل جاتی ہے۔
کچھ لمحے تو مجھے سمجھ ہی نہ آیا کہ کیا ہو رہا ہے یہ سب باتیں میری سمجھ سے بہت بالاتر تھیں  اور مجھے تو یہ تک نہ پتہ تھا کہ میں نے اقبال کے مصرعے کو بدلا ہے میں نے تو فقط کاپی پیسٹ کیا تھا اس وقت تو میں واپس آ گیا ۔ بعد میں احساس ہوا کہ سر کو تکلیف پہنچی ہے غور کرنے پر پتہ چلا کہ تقریر میں ایک دو جملے مزید بھی ایسے تھا  مگر بہر مخفی انداز میں استعمال ہوئے تھے کہ مجھے بھی اندازہ نہ ہو سکا-
سر نے کبھی کسی سے سخت لہجے میں بات نہیں کی  تھی اور ان کا غصہ ہونا عجیب بات تھی اس نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ میں کئی بار سر کے پاس گیا مگر انہوں نے مجھ سے بات نہیں کی نہ دوبارہ میرے کمرے میں کبھی آئے
حتی کہ کالج کے اخری روز بھی نہیں ملے ۔
اس بات نے مجھے مجبور کیا کہ میں اقبال کو پڑھوں اگرچہ اقبال کو سمجھنا میرے بس کی بات نہیں تھی لیکن سر مشتاق نے اتنا ضرور سمجھا دیا کہ اقبال ایک سوچ کا نام ہے جو ہر صحت مند اور مثبت زہن میں پیدا ہوتی رہے گی۔


July 18, 2011

بلا فلسفوف- کم بیک پوسٹ

بہت دن ہو گئے دماغ میں فلسفیاتی موجوں کی دھما چوکڑی مچتے سو آج سوچا کہ ان کو آج کسی طرح سر سے اتار پھینکوں۔ مگر کچھ سمجھ نی آ رہی کہ کروں کیا ۔ پہلے سوچا کہ نائی کے پاس جا کر سر پر استرا پھرا لوں کہ بالوں کے  وزن کی وجہ سے تو کہیں یہ آتش فشانی خیالات نہیں آتے رہتے لیکن فرق اس سے بھی نہیں پڑنا یہ تو کمپنی فالٹ لگتا ہے مجھے اور ویسے بھی مردے کے بال کترنے سے مردے کا تابوت کونسا ہلکا ہو جانا ہے۔ الٹا محلے کے بچوں کو ایک نئی تفریح مل جائے گی۔ ویسے کسی ست بھرائی کو بھی  چھیڑا جا سکتا ہے  لیکن اس میں فلسفے کے ساتھ ساتھ سر جانے کا بھی اندیشہ ہے ۔ ہاں یہ کہ میری جاگنگ آج کل زوروں پر ہے،ساون ہے اور فضا میں نمی بہت ہے سو بھاگتے ہوئے وہ حالت ہو جاتی ہے کہ ابھی گرا کہ ابھی گرا مگر ہمیشہ سے سپورٹس گرائونڈ میں جا کر ایک پاگل پن کا شکار ہو جاتا ہوں جس کی آج تک سمجھ نی لگی ، عام حالات میں تو یکسر مختلف ہوتا ہوں، مگر اتنا پسینہ بہنے کے باوجود بھی دماغ کی شریانوں سے فلسوف نہیں بہتا ،اوہ کیا یاد آ گیا ۔ پچھلے تین مہینے سے جاگنگ کر رہا ہوں ہفتے میں دو یا تین بار  ہی جا پاتا ہوں۔ پچھلے دنوںوزن کرایا تو بہتر-72 کلو تھا   بڑا خوش ہوا کہ کافی کم ہو گیا ہے ، کل  ایک اور چاچے کی مشین پر ٹھہرا تو وہ بولا چھتر 76 ہے بس  سارا جوش جاتا رہا، حالانکہ تین ماہ سے پیپسی تک نی پی کسی کو پیتا دیکھتا ہوں قہ آنے لگتی ہے، کھانا کھاتے وقت ہر نوالہ سے پہلے سوچتا ہوں کہ اس سے کتنا وزن بڑھ جانا ہے ، اور پھر جب اپنی جاگنگ کی حالت یاد آتی تو نوالہ حلق سے نیچے ہی نہیں اترتا - ویسے جوش کو قائم رکھنے کے لیے مشورہ ہے کہ غلط مشین پر مستقل مزاجی سے وزن کرایا کریں اور مشین روز روز مت بدلیں  ۔
جاگنگ سے کچھ جملے پیش ہیں آپکی خدمت میں جو مجھے دوستوں بلخصوص اویس سے سننے پڑتے ہیں جب میں ان کو جاگنگ کی کارگزاری سناتا ہوں۔

.........
"تو ہمیشہ ذندگی کی آخری دوڑ سمجھ کر کیوں بھاگتا ہے"
"ترس ہی کھا لیا کر تھوڑا اپنی حالت پر "
"تو کسی دن ٹریک کے آس پاس کسی  شجرکاری مہم  کے کھدے میں پڑا ملے گا"
"ایدھی کی ایمبولینس کو فون کر کے جایا کر بھاگنے"
" چوتھا چکر تو تیرے تابوت کو لیکر تیرا بھائی لگوائے گا تیری آخری وصیت کی تکمیل  کے طور پر "
دو مزید جو بتاتے شرم آ رہی ہے:(
" اوئے تو کتے کی طرح  کیوں بھاگتا ہے"
"تو کتے کی موت مرے گا بھاگتے ہوئے کسی دن"


July 15, 2011

یقین

کسی شہر میں بارش نہ ہونے کے باعث بہت خشک سالی و قحط تھا  ،شدید گرمی بھوک  اور پیاس سے اموات ہونے لگیں شہر کے  لوگوں نے شہر سے باہر ایک کھلے میدان میں جمع ہونے کا  فیصلہ کیا  کہ جہاں مشترکہ عبادت کی جائے تاکہ خدا آن پر رحم کرے اور آسمان سے بارش برسائے، جس سے قحط سالی دور کرے اور شدید گرمی کا خاتمہ ہو۔شہر کا ہر فرد  امیرو  غریب ،مزہبی اور سیاسی رہنما  مقررہ وقت پر متعین شدہ جگہ کی طرف روانہ ہو گیا ، وہ خدا سے بارش مانگنے جا رہے تھے۔ شدید گرمی کی وجہ سے سبھی  ہلکا بھلکا اور ڈھیلا ڈھالا لباس پہن کر میدان کی طرف روانہ تھے جبکہ ایک نوجوان بارش کامکمل بندوبست کیئے ، برساتی  اوڑھے ، ہاتھ میں چھتری لیے ان کے ساتھ رواں تھا

July 11, 2011

سمت

وہ ترچھے زاویئے پر تعمیر کیے گئے ایک چھوٹے سے  کمرے میں رہائش پزیر تھا یہ کمرہ مستطیل یا مربع کے بجائے ایک پیرالالوگرام کی شکل آختیار کیئے ہوئے تھا۔کمرے کا کوئی بیرونی دروازہ نہ ہونے کے باعث کمرے میں رہتے ہوئے باہر کا نظآرہ کرنے کا واحد زریعہ ایک چھ بٹا چار کی کھڑکی تھی۔ وہ روزانہ  کمرے کی کھڑکی میں آ کر مشرق کی طرف سمت کر کے باہر کا نظارہ کرتا ، لیکن کمرے کے ترچھے زاویئے پر ہونے کی بناء پر وہ کمرے کے لحاظ سے سیدھا کھڑا ہوتا تو اس کو مشرق اور باہر کی دنیا ایک رخ پر نظر آتا  اور اگر وہ مشرق کی طرف سیدھا ٹھہرتا  تو اس کو آپنا وجود کمرے کے لحاظ سے ٹیڑھا نظر آتا۔وہ بیک وقت اپنی سمت دونوں لحاظ سے سیدھی کرنےکی کوشش کرتا رہا جو ممکن نہ تھا   ، وہ  بے سمعتی کا شکار ہو گیا  

July 6, 2011

جون کلوزنگ پارٹ-۱

اکتیس مئی آخری دن تھا  ، میز پر پڑی سبھی کمپنیوں کی بیلنس شیٹ میں آخری رقم صفر تھی ۔ ان میں ایسی کمپنیاں  "اے" گروپ بھی تھی جس کا بزنس اربوں میں ہوا  اور "وائے" گروپ بھی جس نے بمشکل چند لاکھ کا ہی کاروبار کیا مگر قدر مشترک دونوں کا اختتامی بیلنس صفر تھا ، یہی حال ساری  کمپینوں کی بیلنس شیٹس کا تھا۔اگرچہ ہر ایک کی ٹرانزیکشن ہسٹری بہت مخلتف تھی اور کسی نے کروڑوں کی منتقلی یومیہ ہوئی تو کوئی کئی کئی روز کوئی ٹرانزیکشن ہی نہیں کر پائی  مگر ڈیبٹ اور کریڈٹ دونوں کا متوازن انداز میں چلتا رہا۔ بڑی کمپنی کی کریڈٹ کی حد اگر بہت زیادہ تھی تو ڈیبٹ بھی اسی لحاظ سے بہت  زیادہ رہا   جبکہ چھوٹی کمپنیوں کا کریڈٹ کم نکلا  تو ڈیبٹ بھی اسی لحاظ سے کم  نکلا ۔ تو آخر میں جبکہ سب کا بیلنس صفر ہوا اور ان کی ڈیبٹ اور کریڈٹ ہندسوں کے گراف میں سب ہی کی لائینیں اپنی اپنی جگہ  بہت متوازن نظر آ ئیں ، کسی بھی لائن میں حیرت انگیز تغیر نہیں واضح ہوا، ہر لائن کی روانگی بحیثیت مجموعی چھوٹی موٹی  اونچ نیچ کے ساتھ متوازن ہی نظر آئی ، سب کچھ ایک میزان میں چلتا نظر آیا ، فرق محظ سلیب کا ظاہر ہوا نیٹ ایفیکٹ کچھ بھی نہ تھا۔

July 4, 2011

تین منٹ

دوسرا ٹیکنیکل فائول کرنے پر ایک کھلاڑی کو تین منٹ کے لیے باہر کر دیا گیا ۔  اب تین منٹ تک اس کے بغیر باقی چار کھلاڑیوں کو باسکٹ بال جیسے برق رفتار کھیل میں  خود کو کھیل میں  رکھنا تھا۔ جو بھی کھلاڑی باہر چلا جاتا ہے وہ محض تین منٹ کے لیے جاتا ہے اس کے بعد وہ خود یا اس کا متبادل مل جاتا ہے۔ اس لیے تین منٹ کا  کا پلان بنانا ہوتا ہے نہ کہ اگلی پوری گیم کا ۔ کیونکہ  پانچویں کھلاڑی نے واپس ضرور آنا ہوتا ہے۔  صرف تین منٹ کا مختصر عرصہ اس کے بغیر گزارنا ہوتا ہے۔ ان تین منٹ میں باقی مانندہ چار کھلاڑیوں کو پانچویں کھلاڑی  کی زمہ داری تقسیم کر کے اپنے کندھے پر لینی ہوتی ہے۔ لیکن اس انداز سے سر انجام دینی ہوتی ہے کہ وہ اس مختصر سے وقفے میں خود کو تھکا نہ دیں کہ باقی کی گیم ہی نہ کر سکیں  اور نہ ہی اتنے لا تعلق ہو جائیں پانچویں کھلاڑی کی زمہ داری سے کہ مخلاف ٹیم اس کا بھرپور فائدہ آٹھا لے۔ ایسے میں چار کھلاڑیوں کو موٹیویشن کی ضرورت ہے جس کے لیے ایک کھلاڑی کو اپنے قد سے اٹھ کر کھیلنا پڑتا ہے اور وہ گارڈ  کہلاتا ہے باسکت بال میں ۔ ایسے کڑے وقت میں جو بھی اپنی زات سے باہر نکل کر کھیلتا ہے گارڈ ہی کہلاتا ہے۔ وہ کھیل کی رفتار کو سست کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ باقی نہ تھکیں ۔ اپنی حکمت عملی تبدیل کرتا ہے ، اور باقی چار کو متحد رکھتا ہے کہ ایسے میں باقی چاروں میں  باہمی ہم اہنگی کا فقدان نظر آ سکتا ہے کہ ان کے درمیان کی ایک کڑی پانی جگہ سے ہل چکی ہوتی ہے ۔ اور جو ٹیم یہ تین منٹ کا وقفہ پانچویں کھلاڑی کے بغیر بطریق احسن انجام دے دیتی ہے وہ کبھی 
مقابلے کی دوڑ سے باہر نہیں ہوتی۔
  کھیل کا اہم اصول یہ ہے کہ جو بھی جاتا ہے محض تین منٹ کے لیے جاتا ہے اور اس کے بعد وہ یا  اسکا متبادل مل جاتا ہے ۔ایسے میں گارڈ کو  اپنے قد سے نکل کر کھیلنا ہوتا ہے اور باقیوں کو وقتی طور پر اضافی زمہ داری لینی  ہوتی ہے چاہے باسکٹ بال  سامنے ہو یا نہ ہو۔

July 3, 2011

پر

آجکل ساون کا موسم ہے ساون میں زمیں کے اندر سے عجیب عجیب مخلوقات نکل آتی ہیں۔ کیڑوں مکوڑوں کے پر نکل آئے ہیں ۔  آج میں  بال ترزشوانےحجام کے پاس گیا تو اس سیلوں میں کچھ پتنگے گھس آئے۔ حجام نے پہلے تو ہاتھوں سے ان کو دور کرنے کی کو شش کی ، کچھ تو سمجھ گئے باقی دوبارہ واپس آ کر تنگ  کرنے لگے ، دوسری بار جب حجام تنگ ہوا تو اس نے جو سامنے بیٹھتے تھے زرا بھر کو ان کے پروں پر پانی کے قطرے ٹپکا دیئے ان کے پر بھاری ہو گئے اور وہ قوت پرواز سے محروم ہو گئے لیکن جب پانی ان کے پروں میں سے رس گیا تو دوبارہ اڑنے لگے اب جب وہ حجام کے آس پاس منڈلانے لگے تو اس کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ اور  جو پتنگا پل بھر کے لیے بیٹھتا حجام  کمال محارت سے کینچی سے اس کے پر کاٹ دیتا تین چار پتنگوں کے جب پر اس نے کاٹ دیئے تو حیرت انگیز طور پر اس کے بعد کوئی پتنگا وہاں نہیں منڈلایا۔
ختم  شد