July 6, 2011

جون کلوزنگ پارٹ-۱

اکتیس مئی آخری دن تھا  ، میز پر پڑی سبھی کمپنیوں کی بیلنس شیٹ میں آخری رقم صفر تھی ۔ ان میں ایسی کمپنیاں  "اے" گروپ بھی تھی جس کا بزنس اربوں میں ہوا  اور "وائے" گروپ بھی جس نے بمشکل چند لاکھ کا ہی کاروبار کیا مگر قدر مشترک دونوں کا اختتامی بیلنس صفر تھا ، یہی حال ساری  کمپینوں کی بیلنس شیٹس کا تھا۔اگرچہ ہر ایک کی ٹرانزیکشن ہسٹری بہت مخلتف تھی اور کسی نے کروڑوں کی منتقلی یومیہ ہوئی تو کوئی کئی کئی روز کوئی ٹرانزیکشن ہی نہیں کر پائی  مگر ڈیبٹ اور کریڈٹ دونوں کا متوازن انداز میں چلتا رہا۔ بڑی کمپنی کی کریڈٹ کی حد اگر بہت زیادہ تھی تو ڈیبٹ بھی اسی لحاظ سے بہت  زیادہ رہا   جبکہ چھوٹی کمپنیوں کا کریڈٹ کم نکلا  تو ڈیبٹ بھی اسی لحاظ سے کم  نکلا ۔ تو آخر میں جبکہ سب کا بیلنس صفر ہوا اور ان کی ڈیبٹ اور کریڈٹ ہندسوں کے گراف میں سب ہی کی لائینیں اپنی اپنی جگہ  بہت متوازن نظر آ ئیں ، کسی بھی لائن میں حیرت انگیز تغیر نہیں واضح ہوا، ہر لائن کی روانگی بحیثیت مجموعی چھوٹی موٹی  اونچ نیچ کے ساتھ متوازن ہی نظر آئی ، سب کچھ ایک میزان میں چلتا نظر آیا ، فرق محظ سلیب کا ظاہر ہوا نیٹ ایفیکٹ کچھ بھی نہ تھا۔

July 4, 2011

تین منٹ

دوسرا ٹیکنیکل فائول کرنے پر ایک کھلاڑی کو تین منٹ کے لیے باہر کر دیا گیا ۔  اب تین منٹ تک اس کے بغیر باقی چار کھلاڑیوں کو باسکٹ بال جیسے برق رفتار کھیل میں  خود کو کھیل میں  رکھنا تھا۔ جو بھی کھلاڑی باہر چلا جاتا ہے وہ محض تین منٹ کے لیے جاتا ہے اس کے بعد وہ خود یا اس کا متبادل مل جاتا ہے۔ اس لیے تین منٹ کا  کا پلان بنانا ہوتا ہے نہ کہ اگلی پوری گیم کا ۔ کیونکہ  پانچویں کھلاڑی نے واپس ضرور آنا ہوتا ہے۔  صرف تین منٹ کا مختصر عرصہ اس کے بغیر گزارنا ہوتا ہے۔ ان تین منٹ میں باقی مانندہ چار کھلاڑیوں کو پانچویں کھلاڑی  کی زمہ داری تقسیم کر کے اپنے کندھے پر لینی ہوتی ہے۔ لیکن اس انداز سے سر انجام دینی ہوتی ہے کہ وہ اس مختصر سے وقفے میں خود کو تھکا نہ دیں کہ باقی کی گیم ہی نہ کر سکیں  اور نہ ہی اتنے لا تعلق ہو جائیں پانچویں کھلاڑی کی زمہ داری سے کہ مخلاف ٹیم اس کا بھرپور فائدہ آٹھا لے۔ ایسے میں چار کھلاڑیوں کو موٹیویشن کی ضرورت ہے جس کے لیے ایک کھلاڑی کو اپنے قد سے اٹھ کر کھیلنا پڑتا ہے اور وہ گارڈ  کہلاتا ہے باسکت بال میں ۔ ایسے کڑے وقت میں جو بھی اپنی زات سے باہر نکل کر کھیلتا ہے گارڈ ہی کہلاتا ہے۔ وہ کھیل کی رفتار کو سست کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ باقی نہ تھکیں ۔ اپنی حکمت عملی تبدیل کرتا ہے ، اور باقی چار کو متحد رکھتا ہے کہ ایسے میں باقی چاروں میں  باہمی ہم اہنگی کا فقدان نظر آ سکتا ہے کہ ان کے درمیان کی ایک کڑی پانی جگہ سے ہل چکی ہوتی ہے ۔ اور جو ٹیم یہ تین منٹ کا وقفہ پانچویں کھلاڑی کے بغیر بطریق احسن انجام دے دیتی ہے وہ کبھی 
مقابلے کی دوڑ سے باہر نہیں ہوتی۔
  کھیل کا اہم اصول یہ ہے کہ جو بھی جاتا ہے محض تین منٹ کے لیے جاتا ہے اور اس کے بعد وہ یا  اسکا متبادل مل جاتا ہے ۔ایسے میں گارڈ کو  اپنے قد سے نکل کر کھیلنا ہوتا ہے اور باقیوں کو وقتی طور پر اضافی زمہ داری لینی  ہوتی ہے چاہے باسکٹ بال  سامنے ہو یا نہ ہو۔

July 3, 2011

پر

آجکل ساون کا موسم ہے ساون میں زمیں کے اندر سے عجیب عجیب مخلوقات نکل آتی ہیں۔ کیڑوں مکوڑوں کے پر نکل آئے ہیں ۔  آج میں  بال ترزشوانےحجام کے پاس گیا تو اس سیلوں میں کچھ پتنگے گھس آئے۔ حجام نے پہلے تو ہاتھوں سے ان کو دور کرنے کی کو شش کی ، کچھ تو سمجھ گئے باقی دوبارہ واپس آ کر تنگ  کرنے لگے ، دوسری بار جب حجام تنگ ہوا تو اس نے جو سامنے بیٹھتے تھے زرا بھر کو ان کے پروں پر پانی کے قطرے ٹپکا دیئے ان کے پر بھاری ہو گئے اور وہ قوت پرواز سے محروم ہو گئے لیکن جب پانی ان کے پروں میں سے رس گیا تو دوبارہ اڑنے لگے اب جب وہ حجام کے آس پاس منڈلانے لگے تو اس کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ اور  جو پتنگا پل بھر کے لیے بیٹھتا حجام  کمال محارت سے کینچی سے اس کے پر کاٹ دیتا تین چار پتنگوں کے جب پر اس نے کاٹ دیئے تو حیرت انگیز طور پر اس کے بعد کوئی پتنگا وہاں نہیں منڈلایا۔
ختم  شد

June 28, 2011

عقلبند

کہتے ہیں کہ ایک چڑا تھا بہت پھرتیلا  اور تیز ترار۔ اس کی سیانف  ( سیانتوپی یا عقلمندی کی اعلی و ارفع فارم، لفظ سیانا سے نکلا ہے)  بہت مشہور تھی۔ ایک دن وہ اپنے دونوں پائوں آسمان کی طرف کر کے زمین پر لیٹ گیا  اور  جب آس پاس سے باقی سب نے چڑے کی یہ حرکت دیکھی تو پوچھا کہ یہ کیا کر کرہے ہو تو وہ بولا  جو میں جانتا ہوں وہ تم لوگ نہیں جان سکتے یہ آسمان کسی بھی وقت گرنے والا ہے میں نے اپنے پائوں اوپر اس لیے کیئے ہیں کہ  جب آسمان زمین پر گرے تو میں اس کو دونوں پائوں پر سنبھال سکوں اور دنیا کو تباہی و بربادی سے بچا سکوں۔ اب کوئی عقلبند ہوتا اور سمجھاتا  چڑے کو کہ کسی عقلمند کے ۔۔۔بس کی تو بات نہیں تھی یہ

June 21, 2011

سحر

ہم میں سے  سبھی لوگ کسی نہ کسی سحر کے حصار میں رہنا پسند کرتے ہیں دانستہ یا غیر دانستہ۔ وہ سحر کسی کے خیال کا  ہو یا کسی کے جمال کا ۔ یا کبھی تنہائی میں اپنا ہی  خود ساختہ سحر  جس کا حصار اپنے گرد بن لیتے ہیں اور پھر وہی ہماری دنیا بن جاتی ہے ہمارا تخیل اس حصار سے باہر نہیں جا پاتا ہم اس کے سوا کچھ دیکھ پاتے ہیں کچھ نہ ہی سمجھ پاتے کچھ۔ اسی حصآر میں ہم اپنے سپنے سجاتے ہیں ہر چیز سے ہمارا تعلق اسی حصار کے ماتحت  ہو جاتا ہے ۔یہ حصار خود فریبی بھی ہو سکتی ہی اور راہ فرار بھی کہ آپ دنیا کی حقیقتوں سے چشم پوشی کرنا چاہتے ہیں ۔اور اس حصار کے پردے میں دنیا ہمارے سامنے سے چھپ جاتی ہے۔ لیکن  کسی بھی سحر کی ابتداء حقیقت سے ہی منسوب ہوتی ہے آہستہ آہستہ جب ہم اس کے حصار میں پوری طرح قید ہو جاتے ہیں اور اس کے غلام بن جاتے ہیں تو پھر اس  سے دوری کے تصور سے ہی خوف آنے لگتا ہے۔ لیکن ہر جادو کا توڑ ہے وقت ۔ اور وقت یہ حصار توڑ دیتا ہے اس سحر سے نکلنے کے بعد ایک نئی دنیا ہوتی ہمارے سامنے جو در حقیقت اصل دنیا ہے جو ہمیشہ ہی موجود تھی بس فقط ہم نے ہی  آپنی انکھوں پہ  پٹی باندھ کر اس کو خود سے دور کر لیا تھا۔
ایسے حصاروں میں ہم ہر چیز اپنی مرضی کی سوچتے ہیں اور کرتے ہیں جو کہ حقیقت میں ہوتی نہیں کبھی مگر ہم تصور پہ سب کچھ کر جاتے ہیں اور اس سے پوری طرح محظوظ ہوتے ہرتے ہیں۔ اس لیے جب حقیقت میں واپس آتے ہیں تو بہت مشکل ہوتا ہے خود کو اسی نئی دنیا میں  ڈھآلنا ۔ تب ہم واپس اسی سپنے کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ گزر چکا ہوتا ہے 
اور دنیا سے ہم لا تعلق ہونا چاہتے ہیں جو ہر لمحہ ہمیں اپنی طرف کھینچ رہی ہوتی ہےایسے میں ہمارے جسم اور سوچ کا تعلق آپس میں کمزور ہو جاتا ہے سوچ کہیں اور ہوتی ہے اور جسم کہیں اور۔دو کشتیوں کے مسافر بن جاتے ہیں۔ ہم زہنی طور پر ابھی تک اسی سحر سے منسلک ہوتے ہیں جس کا فرضی وجود بھی ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ اور بجائے ہم حقیقی دنیا مین لوٹنے کے ساری عمر خود فریبی میں گزار دینے کو ترجیح دیتے ہیں
ہماری سوچ یا تو اس حصار کے جو ہم سے کھو چکا ہوتا ہے اس کے دلفریب لمحے اپنی زہن میں سجا کر  اپنی زندگی اسی کے گرد سجا لیتی ہے تو ہم جہاں بھی چلے جائیں جو کچھ بھی مل جائے ہمارا سرمایہ وہی لمحات رہتے ہیں اس کے بعد جو بھی ملتا ہے وہ ہمارے لیے بلکل وقعت یا معنی نہیں رکھتا یا دوسری صورت میں اس حصار کے ٹوٹنے کی تلخی کے لمحات کے ساتھ ہمیشہ کے لیے رشتہ جوڑ لیتے ہیں اور ہمیشہ اس کے غم میں نڈھال رہتے ہیں پھر ہمارے لیے کچھ بھی خوشگوار نہیں رہتا ۔ ہر آنے والی خوشی کو ہم اس غم کی چادر میں لپیٹ کر چہرے پر ازلی ماتم سجا لیتے ہیں۔
ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر جادو ، ہر سحر ، ہر خوشی ، ہر غم  کی حقیقت یہ ہے کہ اس نے نہیں رہنا

May 10, 2011

کر لو گل

گھر میں کل کسی سے گفتگو ہو رہی  تھی تو انہوں نے زندگی  کو ایک  نعمت کہا  اور اس کے مثبت پہلوئوں پر بات شروع کر دی  انداز گفتگو قدرے مختلف لگا لیکن زہن سے خیال کو رد کر دیا  کہ یہ تو معمول کی گفتگو کا حصہ ہو گا ۔ لیکن جب یہی موضوع طوالت اختیار کر گیا تو دل میں سوچا کہ ایسی کوئی کتاب تو گھر میں آئی نہیں نئی جس میں فلسفہ حیات  کے بارے میں پڑھ کر یہ باتیں اخز کی گئیں ہوں پھر کیا وجہ ہے اس قصے کی۔  چار نا چار سنتا رہا جب بات اسی موضوع پر ب دستور جاری رہی اور باقاعدہ لیکچر کی شکل اختیار کر گئی تو سوچ میں پڑھ گیا کہ اخر معاملہ کیا ہے لیکن  پھر بھی سمجھنے سے قاصر۔ میں نے کافی دیر کے بعد آہستگی سے پوچھا کہ تمہید تو خوب باندھ دی اب تمثیل بھی بیان کر دی جائے لیکن بجائے  سوال کا جواب ملنے کے گفتگو کا رخ ایک ایک سو اسی ڈگری کا پلٹا کھا کر خودکشی پر جا پہنچا  اور پھر خود کشی کے انفرادی ، معاشرتی اور مزہبی  نقصانات کنوانے کے بعد مجھے سے پوچھا گیا کہ دو دن پہلے میں جو عجیب شکل کی رسی خرید کر لایا ہوں وہ کس مْقصد کے لیے لائی گئی ہے۔ اور ساتھ ہی میری وہ پوسٹ "آج" جس میں چوبیس گھنٹے میں موت کا حوالہ دیا گیا  اپنے متعلق سے اس کے بارے میں دریافت کیا گیا تو سارا معاملہ واضح ہوا۔ تو میں نے ہنس کر کہا کہ غلطی سے خودکشی سے پہلے ہی  وہ پوسٹ بپبلش کر دی ورنہ بعد میں کرنی چاہیے تھی اور سیے وہ   وہ انگریزی فلموں کا آلہ قتل نما چیز میں رسی کودنے کی ایکسرسائز کے لیے لایا ہوں۔
تب ان کو احساس ہوا کہ وہ غلط ہو گئے کچھ بہرحال۔۔ کر لو گل۔۔
لیکن یہ کیا میرے گھر میں بلاگ کا ربط کیسے پتہ چلا ، میرے گھر والے فقط اتنا جانتے ہیں کہ میں اردو ٹائپ کرتا ہوں بلاگ کا تو کبھی بتایا ہی نہیں ۔ خاص طور پر ربط کا تو کسی کو نہیں پتا ۔ یعنی میری غیر موجودگی میں میرے لیپ ٹاپ کی بغیر وارنٹ تلاشی لی جاتی رہتی ہے اور وہاں سے ہاتھ لگا یہ ۔ اور یہ آخری بات تھی جو میں چاہتا تھا  کہ میرے گھر والوں کو میرے بلاگ کا پتہ چلے  کہ مجھے لکھنے سے پہلے یہ سوچنا پڑے کہ گھر والے کیا کہیں گیں ہمارا ہونہار پتر آدھا نفسیاتی مریض ہے :ڈ: ڈ۔ نہ جی فیر ایسے بلاگ کا کیا ککھ فائدہ ہونا ہے ۔ کر لو گل۔۔
بات منہ سے نکلی تو کوٹھے پر تو پہنچانی ہی چاہیے اب   میں ان کمنٹ فروشوں سے بھی بڑا تنگ ہوں ۔ یاد رہے کمنٹ فروش کہہ رہا تبصرہ نگا ر نہیں۔ کمنٹ فروش وہ بلاگر ہیں جو اس مقصد کے لیے کمنٹ کرتے ہیں کہ وہ بھی بلاگر ہیں تو دوسرے کا حوصلہ بڑھا رہے ہوتے ہیں ، یا جوابی کمنٹ کی آس میں کمنٹ کرتے ہیں یا تعلق و دوستی کی بناء پر کمنٹ کرتے ہیں۔ تحریر ہر نہیں، جبکہ تبصرہ نگار وہ ہوتا ہے جو بلاگر نہ ہو صرف تحریر کو پڑھ کر کمنٹ کرے ، پورے بلاگستان میں ایک ہی تبصرہ نگار ہے وہ ہے انانی موس لیکن لوگوں کو اس کے تبصرے کچھ پسند ہی نہیں آتے ۔ لیکن بندہ اچھا ہے   وہ جو بھی ہے۔بس زرا  پیار سے پیش آنے کی ضرورت ہے اس کے ساتھ فقط۔۔۔
ہاں تو بات ہو رہی تھی کمنٹ فروشوں کی تو مجھے سمجھ نی آتی کہ اپنے بلاگ پر میں نے چھتیس کے فونٹ میں بلا امتیاز لکھوایا ہوا ہے لیکن جو کمنٹ کرنے آتا ہے وہ امتیاز ، شاہ جی ، یا بلے جو سارے میرے نام رہے ہیں کبھی نہ کبھی ان سے  پہچانا جاتا رہا ہوں وہ استعمال کرتے رہتے ہیں بلکہ کچھ  تبصرے تو میں نے ڈیلیٹ ہی کر دیئے کہ ان میں وہ نک استعمال کیا گیا جو تین چار لوگوں کے علاوہ کوئی جانتا ہی نہیں  اور میرا بلاگ اتنے رومانوی نام کا متحمل نہیں ہو سکتا  تھا،  کر لو گل،
جس کے بلاگ پر کمنٹ کرتا ہوں وہ بھی بلا امتیاز کے نام سے لیکن جواب میں انہی ناموں سے مخاطب کیا جاتا ہے ، یعنی کمنٹَ بلا امتیاز کرتا ہے جواب شاہ جی وصول کرتا ہے، جناب اپنی اپنی قبر ہے دونوں کی ۔ کر لو گل
پہلے اس کا مورد الزام فیس بک کو ٹھہراتا تھا لیکن اب تو اس کو چھوڑے ہوئے بھی مدت ہی بیت گئی ہے۔۔ پر طرز بلاگراں ہے کہ بدلتا ہی نہیں ۔۔کر لو گل۔
بلاگ کا نام بدلنے کی کوشش کری جا سکتی ہے ویسے ۔ یا انگزیزی والے بلاگ کی طرح ایک گمنام بلاگ بنا لوں کہ فیر کہہ کر دکھائے کوئی مجھے شاہ جی یا بلا  یا امتیاز یا   تاز ۔ کر لو گل


May 4, 2011

فارسی کلام

فارسی کا شوق پیدا ہوئے تو کافی عرصہ ہو چکا ہے لیکن اپنی روایتی  سستی اور ازلی سہل پسندی کی وجہ سے ابھی تک فارسی کی زیادہ سمجھ بوجھ نہیں ہو سکی۔ البتہ کبھی کبھی گولڑہ شریف جانا ہوتا ہے ایک حلقہ احباب میں جن کو فارسی پہ کافی عبور حاصل ہے اور وہ رومی و حافظ جیسے   شعراء کو بکثرت پڑھتے اور سمجھتے ہیں۔ سو ایسی محفل کے ایک کونے میں خاموشی سے بیٹھ کر تشنگی کم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ 
اس حلقے سے شناسا کرنے والا ایک دیرینہ دوست عاکف تھا کچھ دن پہلے اس سے ملاقات ہوئی تو اس نے ایک کلام سنوایا اور سمجھایا بھی جو بہت زیادہ پسند آیا اسی لیے آپ حضرات کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں
اس کلام کی خاص بات یہ ہے کہ اس کو زبانی یاد کرنا بہت مشکل ہے ، بہت کم لوگ اس کو یاد کر سکے ہیں  باوجود بہت کوشش کے۔ دو   زبان میں لکنت رکھنے والے افراد جن میں ایک ایک بوڑھا اور دوسرا نوجوان تھا ان کے انداز گفتگو  پہ ہے یہ کلام۔
فارسی سے لگائو رکھنے والوں کے لیے بلا شبہ ایک گوہر ہے۔ پیر نصیر الدین شاہ کا کلام ہے یہ۔